ٹی وی پر صدارتی خطاب نہ سُننے پر تیونس میں شہری کو 6 ماہ قید
تیونس میں صدر کی ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر سننے سے انکار کرنے پر ایک شہری کو عدالت نے حکومتی رٹ قائم کرنے کے لیے چھ ماہ قید کی سنا کر جیل بھیج دیا ہے۔
قید کی سزا پانے والے شہری کے وکیل نے بتایا کہ صدر قیس سعید کی تقریر نہ سننا بھی عدالت نے جرم قرار دے دیا ہے۔
شہری کے بارے میں یہ اطلاع حکام کو دی گئی تھی جس کے بعد عدالتی کارروائی شروع ہوئی۔
وکیل عادل صغیر کے مطابق ان کے موکل کے خلاف شروع میں تیونس کے تعزیراتی قانون کے آرٹیکل 67 کے تحت کاررائی کی گئی جو مملکت کے سربراہ کے خلاف جرائم کی سزاؤں سے متعلق ہے۔
تاہم بعد میں تعزیراتی آرٹیکل 67 کے بجائے پبلک ڈیسنسی کے قانون کے تحت سزا سنائی گئی۔
سزا میں کہا گیا ہے کہ شہری نے صدر کی تقریر نہ سن کر عوامی سطح پر غیرمہذب ہونے کا ثبوت دیا اور معاشرے میں غلط بات کو رواج دینے کی کوشش کی۔
وکیل کے مطابق مقدمے کی دفعات کی تبدیلی اس لیے کی گئی کہ یہ ایک سیاسی مقدمہ نہ کہلائے۔
مقامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او ‘ تیونس لیگ آف ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ شہری نے ایک قصبے کی جیل میں ہوتے ہوئے صدر کی تقریر سننے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا اسے صدر کی سرگرمیوں اور مصروفیات سے کوئی دلچسپی نہیں۔
اس کے ساتھ رہنے والے اس کے ساتھیوں نے اس جرم کے شکایت حکام تک پہنچائی.
بعد ازاں اس سے تفتیش کی گئی اور بالاخر عدالت نے چھ ماہ قید سنا دی۔
انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی این جی او کے مطابق یہ شہری پہلے ہی ایک مقدمے میں جیل میں ہی تھا ۔ جہاں اپنے سیل میں اس نے اپنے سیل میں دوسرے ساتھی کی موجودگی میں صدر کی تقریر سننے سے انکار کیا تھا۔ انسانی حقوق تنظیم کے مطابق پہلے مقدمے کا خاتمہ ہو گیا تھااور اس کے اہل خانہ اس کے بری ہو جانے کے سبب اب اس کی رہائی کی امید کر رہے تھے۔ مگر اس دوران یہ نیا مقدمہ بنا کر سزا سنا دی گئی۔
وکیل کے مطابق یہ درست ہے کہ اس نے صدر کی تقریر شروع ہونے پر توہین آمیز ریمارکس بھی دیے تھے۔ اس لیے عدالت نے رہاستی رٹ کی خاطر یہ فیصلہ کیا۔

