ٹرمپ کارڈ
پاکستان ایئر فورس کے افسران اور جوانوں کا حوصلہ ساتویں آسمان پر ہے۔ ملکی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر جنگ میں پاکستان ائیر فورس نے دو مئی کی امریکی مداخلت کا بدلہ بظاہر سات مئی کو انڈیا کے چھ جہاز گرا کر لے لیا ہے، ہمارے شاہینوں نے صرف انڈین رافیل طیارے ہی نہیں بلکہ مودی سرکار اور انڈین میڈیا کا غرور بھی خاک میں ملا دیا ہے۔ سفارت کاری کے محاذ پر بھی پاکستان نے ایسی بازی پلٹ دی ہے کہ بھارت کو پاکستان سے منہ توڑ جواب ملنےکے بعد جنگ بندی کا اعلان امریکہ سے ہوتا ہے جو ایٹمی جنگ روکنے کا سرِعام کریڈٹ بھی لیتا ہے، کشمیر کو متنازعہ قرار دیتا ہے اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بنفسِ نفیس پاکستان کی بری فوج کے سربراہ کی وائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر میزبانی کر ڈالتا ہے، کارگل کی جنگ میں ہمارا وزیراعظم صدر کلنٹن سے لنچ تو درکنار ڈانٹ ہی کھا کر آ گیا تھا جس کے بعد حکمتِ عملی بدل گئی اور آج غیروں بلکہ اپنوں سے بھی کارگل کا بدلہ لے لیا گیا ہے، کہاں شکایت تھی کہ کارگل حملے سے پہلے پوچھا نہیں گیا اور کہاں اب آئین سازوں کو بھی پوچھتا پڑتا ہے۔
بہرحال جہاں ہماری تینوں افواج نے بطور ایک ٹیم یہ فتوحات حاصل کیں وہیں اس سب کی بنیاد پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ہی رکھی جن کا اوپننگ سکور 6-0 نہ ہوتا تو میچ کسی طرف بھی جا سکتا تھا۔ بھارت سے معرکے میں پاکستان کے لیے جنگ کے پرانے اصول نئے انداز میں طے ہوئے ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ کسی بھی جنگ میں فضائی قوت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے، دوسرا یہ کہ پاک فضائیہ نے اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں پر جو توجہ مرکوز رکھی رہی اُس کا نتیجہ ہم نے اس معرکے میں دیکھ لیا، تیسرا یہ کہ مستقبل کی جنگیں زمین پر قبضے کی نہیں فضاؤں پر کنٹرول کی ہوں گی، چوتھی بات یہ کہ فضائیہ کی جدید ٹیکنالوجی کے لیے ہمیں اندرونی وسائل و ہنرمند افرادی قوت تیار کرنا ہو گی جس کے لیے سرکار کی نہیں بلکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری لازمی ہے۔ ان تمام اسباق کا ادراک ہمیں پاک فضائیہ کی حالیہ جنگی، تربیتی اور آپریشنل منصوبہ بندی میں ہوتا نظر آیا ہے۔ تینوں افواجِ پاکستان کے ترجمان دفتر آئی ایس پی آر نے جس طرح جنگ کے دوران پاکستان اور بھارت دونوں عوام کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھا وہ قابلِ ستائش ہے۔
اس سب کے باوجود پاک فضائیہ کی قیادت کو بظاہر وہ سعادت و پذیرائی نہیں مل پائی جس کے وہ حقدار تھے- حال ہی میں پاک فضائیہ کے میڈیا ونگ نے طویل میڈیا بریفنگ دی جس سے بطور پاکستانی اپنی افواج بلخصوص فضائیہ کے مستقبل پر جہاں امید کی کرنیں پھوٹیں وہاں ریاستی سطح پر ملک کے سیاسی، معاشی اور عسکری ڈھانچے سے متعلق ذہن نے بہت سے سوالات کو بھی جنم دیا جس کو عوام اور فیصلہ سازوں کے سامنے رکھنا انتہائی اہم ہو چکا ہے۔
امید کی کرنوں کی روشنی نیشنل ایرو سپیس ٹیکنالوجی پارک میں چھن کر آتی ہے، یہاں آ کر محسوس ہوتا ہے کہ سیارہ مریخ پر نیا شھر آباد کیا گیا ہے، جس سیزیرین آپریشن کا نام ولادت کے بعد بنیان المرصوص رکھا گیا ولادت سے پہلے پاک فضائیہ کے رحم اسی پارک میں اس نے طویل عرصے تک پرورش پائی، ۲۰۲۱ میں فضایئہ کی کمانڈ سنبھالنے کے فوراً بعد ائیر مارشل ظہیر احمد بابر نے فضائیہ کو سائبر سپیس میں جنگ کی تیاری کا حکم دیا اور اس کے لیے دستیاب وسائل کو استعمال میں لانا شروع کیا، تین سال سے جاری ان تیاریوں کے بعد جب بنیان المرصوص شروع ہوا تو اس وقت تک ٹیکنالوجی کا ’ٹرمپ کارڈ‘ ائیر چیف کے پاس تھا۔
یہ جنگ صرف جہازوں، اُن کے پائلٹوں اور میزائلوں کی نہیں تھی بلکہ اُس برقیاتی میدان جنگ کی تھی جس میں پاکستان بھارتی فضائیہ کی ہر جنگی منصوبہ بندی پر عمل سے پہلے اُس کا توڑ نکال رہا تھا، بھارت کے بجلی گھروں کو شٹ ڈاؤن کیا گیا، ان کے میزائلوں اور جدید دفاعی نظام ایس ۴۰۰ کو تلاش کر کے تباہ کیا گیا، ان کے پائلٹس کی گفتگو سے لوکیشنز معلوم کی گئی اور اپنے ایئر بورنُ ریڈارز اور جنگی جہازوں کے ساتھ ایسا جال بُنا گیا کہ ۴ رافیل طیاروں سمیت کل سات جہاز (بشمول بنا پائلٹ کے ایک جہاز) گرائے گئے، اب یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ مرید کے کی فضاؤں میں بھارت کے رافیل طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود میں گھس کر اپنی برتری جتانے کی بھرپور کوشش کی مگر پاکستانی طیاروں نے انہیں ایسا نہیں کرنے دیا، مگر اس اثنا میں وہ ایک بھی طیارہ شکن میزائل داغنے میں ناکام رہے، وقت گذرنے کے ساتھ نئی ڈرامائی معلومات کا انکشاف کیا جا رہا ہے، ظاہری بات ہے فاتح فوج کو سب سنتے اور مانتے ہیں-
اس تاریخی کامیابی کی وجہ کئی سال پہلے موجودہ ائیر چیف ائیر مارشل ظہیر احمد بابر کی طرف کمان سنبھالتے ہی سائبر وارفئیر کےساتھ فضائی جنگ کے ملاپ کا منصوبے کی تشکیل بتائی جا رہی ہے، اس سلسلے میں نیشنل ایرو سپیس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں ملک بھر سے سائبر سپیس کے بہترین اور مہنگے ترین نوجوان ماہرین، محققین اور سائبر جنگجؤوں کو لا کر مخصوص اہداف دیے گئے۔ پاک فضائیہ میں اس وقت تقریباً ۳۰ پی ایچ ڈی افسران کا ایک قومی کنسورشیم ہے جو ملک بھر کی ائیر یونیورسٹیز میں جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تحقیق کر رہے ہیں۔ جے ایف ۱۷ اور اِس کے ہتھیاروں کے علاوہ جنگی جہاز کے ریڈار سسٹم اور پاکستان کے جدید ڈرونز اور بغیر پائلٹ کے جنگی جہازوں سے متعلق بھی تحقیق جاری ہے، یہ ڈرونز بھارت کے ساتھ جنگ میں کامیابی سے استعمال بھی ہوئے۔ کچھ دوست ممالک اس جنگ کے بعد چین کے جے ۱۰ سی کے ساتھ جے ایف ۱۷ کی خریداری کرنا چاہ رہے ہیں جس حوالے سے آذربائجان کے ساتھ ڈیڑھ ارب ڈالر کا معاہدہ بھی ہوا ہے۔ ایسی بڑے پیمانے پر دفاعی سازو سامان اور اسکی بیرون ملک فروخت سے ملنے والے زرِ مبادلہ میں حکومت کا کتنا شیئر ہوتا ہے اس بارے میں نہیں بتایا گیا ماسوائے اس کے کہ حکومت کو بھی کچھ ملتا ہے۔ شاید آئی ایم ایف کے شاہینوں سے بچنا بھی ضروری ہو گا جنکو ایسے ٹیکنالوجی زونز پسند نہیں جہاں ٹیکس چھوٹ ہوتی ہے۔
بارحال ٹیکنالوجی پارک کا یہ تجربہ اتنا کامیاب تھا کہ بری افواج کو بھی اس سائبر جنگ میں پاک فضائیہ کی بھرپور مدد حاصل رہی۔ جنگ میں دشمن کے انسانی و دیگر اثاثوں و جنگی صلاحیت کے مکمل خاتمے کے لئیے ایک kill chain یعنی تسلسل و ترتیب سے موثر کاروائیوں کے نظام کی ضرورت پڑتی ہے جس میں دشمن کی سرگرمیوں اور کاروائیوں کے دوران انکی گفتگو و محل وقوع کی لمحہ بہ لمحہ و حرف بہ حرف معلومات کا حاصل کرنا ضروری ہو گیا ہے، یہ سب سائبر سپیس، سوشل میڈیا اور دیگر حساس آلات کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، اس ٹیکنالوجی پارک میں ایسے حساس آلات کی تیاری اور ایسے سوفٹ وئیرز کی تیاری زور و شور سے جاری تھی جنکا بھارت کیساتھ جنگ میں بھرپور استعمال کیا گیا۔ بظاہر فضائیہ نے ابھی اپنی پوری قوت کا ۳۰ فیصد بھی مظاہرہ نہیں کیا تھا اور بھارت اس جنگ میں سائبر سپیس کو بطور ہتھیار استعمال کرنے میں مکمل ناکام رہا جبکہ ہماری سائبر وارئیرز، جنگی پائلٹس، ریڈارز اور ڈرونز نے ایک ایسا جال پھینکا کہ امریکہ اور یورپ کے دفاعی ماہرین بھی ہم سے اس معرکے بارے پوچھ رہے ہیں اور کچھ مغربی یونیورسٹیوں میں اس جنگ کو بطور مضمون بھی پڑھایا جا رہا ہے۔ اس سارے معرکے میں چین کے جہاز تو استعمال ہوئے مگر ذرائع کا دعوہ ہے کہ ہم نے جس طرح چینی جہازوں، اپنے ریڈارز سائبر سپیس اور سیٹلائٹ امیجز کا ایک جال ترتیب دیا وہ خود چین کی فضائیہ کے لیئے بھی حیران کن تھا۔
بتایا گیا کہ اس تمام حکمت عملی کے پیچھے ائیر چیف ظہیر احمد بابر کی کئی سال کی محنت اور معرکے کے دوران جوش اور جذبہ تھا جس نے پاک فضائیہ کے پائلٹس کو فضا میں بھی پرجوش اور توانا رکھا، ایک ایک پائلٹ کیساتھ جدید نظام کے ذریعے رابطے میں رہنے کے دوران انکو جوش بھی دلاتے رہتے تھے، اس سارے عمل کی تفصیلات وار روم کی بڑی سکرینوں پر دکھتی سیٹلائٹ پکچرز، اور پاک بھارت سرحدوں کی حقیقی وقت میں براہ راست ڈیجیٹل صورت حال بتانے والے برقی نقشے یہاں ایک جدید جنگی ھیڈ کوارٹر کا منظر پیش کر رہے تھے، ان میں پاکستان اور بھارت سے اُڑ نے والے جنگی جہازوں کی لمحہ بہ لمحہ حرکات و سکنات واضح نظر آ رہی تھی۔ اسی وار روم میں ایک ڈیجیٹل دیوار پر پاکستان کی ایک چھوٹی کمیونیکیشُ سیٹلائٹ سے حاصل کردا مناظر بھی براہ راست موصول ہو رہے تھے، ایک دوسری ڈیجیٹل دیوار پر بنا پائلٹ کے جنگی جہازوں کی آنکھ سے بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کے قریب دھشت گردوں کیخلاف کاروائی کی ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی، ایک سوال پر یقین دلایا گیا کہ صرف مسلح اور تصدیق شدہ دھشت گردوں کو ہی ایسے دور دراز علاقوں میں نشانہ بنایا جاتا ہے مگر ایسے ڈرونز کے استعمال کے دوران غلطی بھی ہو چکی ہے جس میں عام شھریوں کا نقصان ہوا۔ ایسے اہداف کے لئیے معلومات خفیہ ذرائع سے ملتی ہیں اور اہداف کی تصدیق بھی کی جاتی ہے۔
اس سارے معلوماتی دورے کے دوران بطور صحافی کچھ ذاتی مشاہدات کا ذکر کرنا ضروری ہے جن کا تعلق ہمارے سیاسی، معاشی اور عسکری ڈھانچے سے ہے۔
۱- اس میں کوئی شک نہیں کہ تینوں افواج میں اس وقت بھی مکمل ہم آہنگی موجود ہے مگر محسوس ہوتا ہے کہ جہاں خفیہ عسکری ادارے خود کو سویلین حکومتوں کے آگے جوابدہ نہیں سمجھتے اور مکمل معلومات نہیں فراہم کرتے اسی طرح ہماری بری افواج، فضائیہ اور بحریہ کے خفیہ اداروں کے بیچ بھی معلومات شیئر کرنے کا مستقل اور پائیدار نظام موجود نہیں۔ مہذب ممالک میں منتخب حکومتیں تین افواج کے درمیان بیچ پُل کا کام کرتی ہیں اور حکومت کو بائی پاس کر کے کوئی ایک شعبہ دوسرے شعبے پر حاوی نہیں ہو سکتا- حکومت ہی اصل حاکم ہوتی ہے جو عوام کے ووٹ سے آتی ہے نہ کہ کسی وزیراعظم کے دستخطوں والے نوٹیفیکیشن سے۔
۲- پاکستان کی بری افواج اور فضائیہ نے جہاں بھارت میں زبردست اور مؤثر جوابی کاروائی کی وہاں ہماری وفاقی حکومت، وزارتِ دفاع اور جوائنٹ چیف آف اسٹاف ہیڈ کوارٹر زیادہ فعال کردار ادا کر سکتے تھے مگر ایسا نہیں ہوا، اس پوری جنگ میں فیلڈ مارشل نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں تدبر اور پوزیشن کے ساتھ کو جو لیڈرشپ فراہم اس کو مزید آئینی اور قانونی ڈھانچے کے مطابق ڈھالنا بھی بہت ضروری ہو گیا ہے۔ بھارت کی طرف سے کانپتی ٹانگوں کے ساتھ اگر یہ کہا جائے کہ ہم تو جنگ بندی کر دیں گے مگر اپنے ائیر چیف کو منا لیں، یا وزیراعظم سے کہا جائے کہ اپنے آرمی چیف کو منا لیں تو اس کا کیا مطلب لیا جانا چاہیے؟
۳- تینوں افواج میں مزید ہم آہنگی کے لیے انٹرسروسز inter-services کے تمام اداروں میں فضائیہ اور بحریہ کو بھی اعلیٰ ترین سطح پر نمائندگی کا بھرپور موقعہ ملنا لازمی ہے، چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے جیسے عہدے اہم ہیں۔
۴- تینوں افواج کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ملکی سلامتی اور ترقی صرف جدید ہتھیاروں اور جنگی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے یقینی نہیں بنائی جا سکتی، اس کے لیے افواج کو اپنے شھریوں کے ساتھ سیاسی/کمرشل/کاروباری مقابلے کی فضا سے نکلنا ہو گا اور جدید جنگی ہتھیاروں کی صنعتی سطح پر تیاری کو بھی ایک شفاف پرائیویٹ کاروبار کی شکل دینا ہوگی وگرنہ نجی کاروباری ادارے کبھی بھی ریاستی کاروبار کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے اور اگر ریاست جنگی ہتھیاروں کی تیاری کا کاروبار شروع کر دے تو پھر وہی ہو گا جو دوسری جنگِ عظیم سے پہلے جرمنی میں ہوا تھا۔
۵- دفاعی صنعتی شعبے میں ریاستی وسائل کا کاروباری مقاصد کے لیے استعمال ہماری نجی صنعتی شعبے کی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے ہر قسم کے صنعتی شعبے اور جمہوری نظام کی موت ہو گا۔ امریکہ میں بھی دفاعی شعبے کی ترقی کا راز اُسکا پرائیوٹ سیکٹر ہے جو وہاں کی اعلی ترین یونیورسٹیوں میں جاری تحقیقی سرگرمیوں کا مرہونِ منت ہے، شفاف مقابلے کی فضا میں منافع اُس خون کی مانند ہے جو عام شھریوں کی رگوں میں زندگی بن کر دوڑتا ہے مگر یہی منافع جب طاقت ور ریاست اپنی مرضی کے قوانین اور پالیسیاں بنا کر اور انہیں تبدیل کر کے عام شہریوں کے ساتھ کاروباری مقابلے کے بعد کماتی ہے تو وہ درندے کی منہ کو لگا وہ خون بن جاتا ہے جو عوام کی رگوں سے نچوڑا جاتا ہے۔ ایسے منافعے کو برقرار رکھنے کے لیے عوام زبان بندی کی جاتی ہے اور معاشی و معاشرتی ارتقا کا عمل رُک جاتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ جیسے اگر ہم دفاعی سیٹیلائٹس کی تیاری کی دوڑ میں خلا میں دس پندرہ چھوٹے سیٹلائٹس چھوڑ کر چین کی طرز پر دنیا کے انٹرنیٹ سے الگ کر کر اپنا ہی ایک انٹرا نیٹ بنا لیں اور پھر ہم سب چائنا کی جمہوریت کے مزے لینا شروع ہو جائیں۔
۶- ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ امریکہ اور دیگر مہذب اور جمہوری ممالک پاکستان کو معاشی اور جمہوری قوت کے طور پر دیکھیں نہ کہ ایک فوجی قوت جس کو صرف جنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہماری تہذیب اور اس کی تاریخ میں جنگجؤوں اور سپہ سالاروں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔

