شہریوں کو سرکاری نرخ پر اشیا بیچنے والے یوٹیلٹی سٹورز 50 برس بعد بند
پاکستان میں شہریوں کو سرکاری نرخ پر اشیائے خورونوش فراہم کرنے کے لیے جولائی 1971 میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قائم کیے گئے یوٹیلیٹی سٹورز 54 برس بعد بند کر دیے گئے۔
جمعرات کو وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں باضابطہ طور پر بتایا گیا ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی تمام سرگرمیاں بند کر دی گئی ہیں۔‘
وفاقی حکومت نے 31 جولائی تک یوٹیلیٹی سٹورز کی تمام سرگرمیوں، جن میں ان کے سٹورز وغیرہ شامل تھے، کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
وزیراعظم پاکستان کی 28 جون 2025 کی ہدایات اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے دو جولائی 2025 کے فیصلے کی روشنی میں جمعرات کو باضابطہ طور پر یوٹیلیٹی سٹورز کی بندش کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
نوٹیفیکیشن میں بتایا گیا ہے کہ تمام یوٹیلیٹی سٹورز پر فروخت اور خریداری بند کر دی گئی ہے۔ سٹورز میں موجود سامان کو ویئر ہاؤسز منتقل جبکہ وینڈرز کو اشیا واپس کی جا رہی ہیں اور انوینٹری کو بھی مکمل کیا جا رہا ہے۔‘
وزارتِ صنعت و پیداوار کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ’اس بارے میں تمام زونل مینیجرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بندش پر مکمل اور سختی سے عمل درآمد کریں۔‘
یوٹیلیٹی سٹورز کی بندش کے خلاف اسلام آباد میں ادارے کے ہیڈ آفس کے باہر 10 روز سے برطرف کیے گئے ملازمین کا احتجاجی دھرنا جاری ہے، تاہم اس دوران ہی وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے بندش کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔

