کالم

سھیل وڑائچ جیسے صحافی اور شہباز شریف جیسے وزیراعظم

اگست 17, 2025

سھیل وڑائچ جیسے صحافی اور شہباز شریف جیسے وزیراعظم

سھیل وڑائچ نے عمران خان کو اب باقاعدہ معافی مانگنے کا مشورہ دے کر خود کو ستارہِ امتیاز کا حقدار ثابت کر دیا ہے، صحافی کے روپ میں ایسے کئی ھرکاروں کی کچھ دنوں میں اڈیالہ جیل میں ملاقات بھی کروائے جانے کا امکان ہے جس کے بعد کالا دھواں مارتا ۷۰ سال پرانے ڈیزل انجن والا یہ وڑائچ طیارہ ایک بار پھر فراٹے بھرتا دیگر مسافروں کی توجہ کا مرکز ہو گا۔

‏ایسے چرب زبان چرب دماغ چربہ ساز صحافیوں نے ہمیشہ عین اُس وقت سیاست کی پیٹھ میں صحافت کا چھرا گھونپنا اپنا فرض سمجھا ہے جب اسٹیبلشمنٹ بند گلی میں داخل ہو گئی۔
جن کو قوم سے اپنے ۷۸ سال جرائم اور آئین سے غداری کی معافی مانگنی چاہیے اُس قوم سے ان لوگوں کے آگے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے کا کہا جا رہا ہے۔
بے وزن دلیل کے حامل وزن دار چند صحافی لوگوں نے اپنے اور دوسروں کے لیے ہمیشہ اصولوں کی کوہ پیمائی کی بجائے بزدلی کی ڈھلوان کا انتخاب کیا ہے۔ مگر مقصد پورا ہو گیا ہے، ایک بحث چھڑ چکی ہے جس سے پارٹی اور عوام میں تقسیم کا عمل جاری ہے۔

‏ایک فیلڈ مارشل سے ملاقات کیا ہو گئی سھیل وڑائچ خود کو وزرائے اعظموں کے ہم پلہ سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔
ظاہر ہے اس ملک میں وزیراعظم بننے کے لیے عوام کے ووٹ کی نہیں آرمی چیف کی نظرِ کرم کی ضرورت ہوتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے پی ٹی آئی سے جنگ میں سب کچھ لٹا دینے کے بعد اگر نوبت ایک صحافی کے ذریعے معافی مانگنے کی اپیل تک آ گئی ہے تو پھر خود اسٹیبلشمنٹ کو ہی عمران خان سے معافی مانگ لینی چاہیے۔

کہاں گئے ریاست کے وہ آئینی ادارے جیسا کہ پارلیمنٹ، حکومت اور عدلیہ جس نے شواہد کی بنیاد پر عمران خان اور اُس کی پارٹی کو نو مئی کے مقدمات میں سزا دلوانی تھی؟ اب معاملہ عمران خان کی "نکی جئی ہاں” تک آ گیا ہے تو پھر ریاست اور اس کے اداروں کی اس سے بڑی ناکامی کیا ہو گی۔

‏دوسری طرف اگر عمران خان نے سھیل وڑائچ کے مشورے پر نو مئی کے واقعات کی مکمل ذمے داری قبول کرتے ہوئے معافی مانگنی ہی ہے تو پھر صرف نو مئی ہی کیوں۔ تھوڑا پیچھے چلے جائیں تو 2014 میں پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملوں میں ملوث جنرل راحیل شریف اور جنرل ظہیر الاسلام کی اعانت کاری اور منصوبہ بندی پر بھی اعترافات کے بعد ایک معافی ہونی چاہیے۔
پھر آرمی پبلک سکول پشاور میں معصوم بچوں کی حفاظت میں سنگین غفلت، امریکہ کے ایبٹ آباد حملے کو روکنے میں ناکامی اور 1990, 2018 اور 2024 کے الیکشنز کی چوری پر بھی کسی کو معافی مانگنی چاہیے۔
ہم تو آج تک اُن بنگالیوں سے بھی معافی نہیں منگوا سکے جنھوں نے 1971 میں ہماری فوجی تنصیبات پر دشمن سے مل کر نو مئی سے بھی بڑے حملے کروائے، سچی بات تو یہ ہے ہم نے بھی تو اُن پاکستانیوں سے آج تک معافی نہیں مانگی۔ "بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائے گی ۰۰۰”

‏ہماری اسٹیبلشمنٹ کو تلخ حقیقت سے نظر نہیں چرانی چاہیے، 2018 سے پہلے اِس نے جس طریقے سے پی ٹی آئی اور اُس کے نوجوانوں کو نواز شریف حکومت کے خلاف استعمال کیا اور 2018 میں اپنی وردی کا رعب اور وقار کھویا اس کے بعد اِس نسل کے لیے سیاسی مخالفین اور باوردی مخالفین میں فرق کیسے برقرار رہ سکتا تھا، ایسے میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ نو مئی کی اصل وجہ پچیس جولائی 2018 ہے، 5ویں نسل کی ہائبرڈ جنگ کے لیے تیار ان نوجوانوں نے فوج کو اپنا دوست یا دشمن ہی سمجھا-

‏ فوج کے اندر وردی کی حرمت پر سخت ھدایات دی جاتی ہیں، بازاروں اور دیگر عوامی جگہوں پر باوردی افسران کو عوام میں گھلنے ملنے کی اجازت اسی لیے نہیں ہوتی کہ وردی کی عزت اور اس کا رعب ختم ہی نہ ہو جائے، مگر کیاہوا کہ چند سیاستدانوں، صحافیوں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں روایتی سیاستدانوں کے خلاف آئی ایس پی آر میں نفرت کے بیج بوئے گئے، فوج کے اس سیاسی کردار کے باعث پی ٹی آئی کے لیڈران اور ورکروں کا فوجی تنصیبات کو اپنے احتجاج کا ہدف دیکھنا اور بنانا ایک مجرمانہ مگر قدرتی امر تھا۔
فوج سیاست کا دروازہ کھٹکھٹائے بغیر اندر داخل ہو گی تو سیاست فوج کے دروازے پر دستک تو دے ہی آئے گی۔
بنگلہ دیش میں کیا ہوا؟ وہی جو غیر منتخب حکمرانوں کیساتھ ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔ اس ساری صورتِ حال میں معافی تو سب کو قومی ترانے کی دھن پر مل کر مانگنی چاہیے۔

صحافیوں کا کام اپنی تلخ تاریخ کو مسخ کر کے سیاستدانوں سے معافیاں منگوانا نہیں بلکہ ملک، قوم اور آئین کے غداروں کے کیخلاف قوم کو یکجا کرنا ہے۔ عمران خان نے جس جوانمردی کیساتھ جیل کاٹی ہے ایسی جیل کا ہمارے جیسے صحافی تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہم نے تو تین درجے کے مسلمانوں کے بارے میں سنا ہے، ایک وہ جو طاقت سے برائی کو روکے (مراد منتخب حکومت اور قانون کی طاقت سے ہے)، دوسرا وہ جو با اختیار نہ ہو تو زبان سے برائی کو برائی کہے (یہ صحافت کے لئیے مناسب ہے) اور تیسرا درجہ وہ ہے جو کمزور ترین ہے یعنی جو برائی کو دل میں برا جان کر خاموش رہے۔ عام حالات میں صحافی اپنی قلم اور زبان کی طاقت سے برائی کو برائی کہنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے اور یوں دوسرے درجے کا مسلمان ہوسکتا ہے۔ مگر اب ایسے صحافی کو کس درجے پر رکھا جائے جو اچھائی کو برائی یعنی حق کو ناحق بولنا اور لکھنا شروع ہو جائے اور اُس کے لیے دلیل بھی دے؟ سھیل وڑائچ جیسے صحافیوں اور شھباز شریف جیسے سیاستدانوں کے لیے کوئی نیا درجہ ایجاد کرنا پڑیگا۔

‏وڑائچ صاحب نے عمران خان کی مستقل مزاجی کا کریڈٹ اُسی طرح یو ٹیوبرز کو دیا ہے جس طرح 2024 کا عوامی مینڈیٹ پی ٹی آئی کی بجائے شھباز شریف کی جھولی میں ڈال دیا گیا تھا۔

سھیل وڑائچ جیسے سینئیر صحافی اپنے تجزیے میں یوٹیوبرز کو جو کریڈٹ دے رہے ہیں اس کی وجہ ان کے اخبار اور ایسے اداروں کی گرتی ہوئی اپنی ساکھ ہی تو ہے۔ جس ملک میں ٹیسٹ ٹیوب سیاستدان اور صحافی معافی کے جڑے ہاتھوں کے ساتھ اس دنیا میں آئیں گے تو وہاں لہراتے گھونسوں کے ساتھ یوٹیوب صحافی ہی خبر اور تجزیوں کا قابل اعتماد ذریعہ ہوں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے