پاکستان میں جمہوریت کس دور میں تھی؟
جو لوگ مغرب میں جمہوریت دیکھ چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بیچارے پاکستانیوں نے کتنی جمہوریت دیکھ رکھی ہوگی۔
میں نے تو جب ہوش سنبھالا تو ستتر میں بھٹو مخالف تحریک چل رہی تھی۔
ایک دن پتہ چلا کہ میرے نانا کو تھانہ حرم گیٹ والے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ نانا قومی اتحاد کے امیدوار کے پولنگ ایجنٹ بنے تھے اور انہیں اس کام سے تھانے کے ذریعے بھی منع کیا گیا تھا اور ان کے کاروبار کی جگہ پر پیپلزپارٹی کے غنڈے بھی توڑ پھوڑ کر گئے تھے۔
ہمارے گھر میں کہرام مچ گیا،پولیس نے میرے ماموؤں کو ایکسیس نہیں دیا۔
یہ گرفتاری ویک ایند پر کی گئی تھی۔
نئے ہفتے کے شروع میں نانا کو اسٹریچر پر گھر پہنچا دیا گیا۔
ان کے سارے جسم پر نیل تھے،اور ان کو بہت دیر تک برف کے بلاک پر لٹایا گیا تھا۔
چھٹی جمعے کی ہوتی تھی اور ہفتے والے روز جب انہیں واپس پہنچایا گیا تو وہ نیم مردہ تھے،اتوار کو ان کا انتقال ہوگیا۔
کسی اخبار نے خبر نہیں چھاپی حالانکہ ان کا گھر مساوات اخبار کے دفتر سے متصل حسن پروانہ کالونی میں تھا۔
یہ تشدد کا واحد واقعہ نہیں تھا، جگہ جگہ عقوبت خانے کھلے تھے۔
میں نے نانا مرحوم کا جو بہت نیک نام کاروباری شخص تھے کا آخری دیدار کیا تو میری عمر نو سال تھی،مجھے وہ چہرہ نہیں بھولتا۔
یہ وہ خالص ترین جمہوری دور تھا جو اس قوم کو میسر آیا۔
عدالتیں اسی طرح سے باندی تھی جیسے اب ہیں، میڈیا کنٹرولڈ تھا۔
دوسرا دور جو میں نے دیکھا وہ ضیا الحق کا تھا، اس دور کی شخصی آزادی کا کیا ہی کہنا، پی پی پی کے وہی کارکن جو تین چار ماہ پہلے دوسرے لوگوں کو مار پیٹ رہے تھے تختہ مشق بن گئے۔
اخبارات میں لفظ دلبرداشتہ کو بھی سینسر کیا جاتا تھا۔
مجیب الرحمن شامی،الطاف حسین جیسے صحافیوں کو پروپیگنڈا میں لگایا گیا تھا، عدالتوں کی آزادی کی پوزیشن یہ تھی کہ ایک ریٹائرڈ جج کو بحال کروا کے بھٹو کو پھانسی دے دی گئی، نسیم حسن شاہ جیسے چھوٹے قد کے لوگ بڑے بنائے گئے۔
کہاں کی آزادی اظہار رائے اور کیسی جمہوریت۔
جونیجو کا پودا لگا کر اکھاڑ لیا گیا،وہ کیسی جمہوریت تھی کہ بس آج کا دور ہی سمجھ لیں۔
بالاخر جہاز پھٹ گیا اور طلوع ہوا اسلم بیگ کا دور، بینظیر وزیرآعظم بنتی ہیں، وزیر خارجہ فوج کا اور انہیں ایٹمی سہولت کے معائنے سے روک دیا جاتا ہے۔
ضیا بریگیڈ نواز شریف کو لیڈر بنانے کے لئے اخبارات وغیرہ میں جھوٹا پروپیگنڈا شروع کرتی ہے اور اسحاق خان اسلم بیگ کے کہنے پر اس موئے ناف جیسی جمہوریت کو ایک بڑے لان موور کے ذریعے کاٹ ڈالتے ہیں۔
بینظیر بھٹو کو نکالنے سے پہلے ہی تاج نواز شریف کو پہنانے کا فیصلہ ہوچکا تھا اور یوں آیا نواز۔
کتنی جمہوریت تھی کا پتہ چل سکتا ہے کہ نواز شریف ایم کیو ایم کو پیغام بھیجتا ہے کہ نکل لو ورنہ آصف نواز جنجوعہ (جمہوریت کی مادر ملت خدیجہ شاہ کے نانا) تمہارا بیج ختم کرنا چاہتا ہے
نواز شریف کو ایک بار پھر اسحاق خان کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوتی ہے۔
ملک کی سب سے بڑی جمہوری جماعت جشن مناتی ہے کہ ایک آمر صدر نے دھکے سے منتخب حکومت کو برطرف کیا ہے۔
پھر ہم نے بینظیر اور نواز کے جھٹپٹے دیکھے،جن میں دونوں بڑی پارٹیاں ویسٹ انڈیا کمپنی کی لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کا شکار ہوتی ہیں۔
پھر اچانک پتہ چلتا ہے کہ آئین میں درج مملکت کے سب سے طاقتور شخص نے ایک سرکاری ملازم کو برطرف کیا لیکن اس ملازم کے دوست بندوقیں لے کر وزیرآعظم کے گھر پہنچے، وزیرآعظم کو گرفتار کیا۔
اس پر مشاہد حسین سید کا وہ اقتباس یاد آجاتا ہے کہ جس جوان نے وزیرآعظم پر بندوق تانی ہوئی تھی اس کے عضلات اس قدر تنے ہوئے تھے کہ مجھے ڈر ہوا کہ وہ ہلکی سے حرکت کا شبہ ہونے پر فائر کھول دے گا،تو میں نے اس سے بات چیت شروع کی اور اسے سمجھایا کہ ہم نہیں بھاگیں گے۔
منتخب وزیرآعظم سے جانوروں جیسا سلوک کیا گیا، اسے جہاز میں بھی ہتھکڑی لگائی جاتی، بکتر بند گاڑی میں زنجیر سے باندھا جاتا اور عدالتوں نے فٹا فٹ عمر قید سنا دی، راتوں رات سندھ ہائیکورٹ نے اپیل مسترد کر دی اور پاکستان کا نظام انصاف سٹریپ ٹیز کرنے لگا۔
سرکاری ملازم کو چند سرکاری ملازموں نے آئین میں تبدیلی کا اختیار دے دیا اور یوں جمہوریت کا بول بالا ہوا۔
ایک آمر سے نجات پانے کے لئے ایک اور آمر جنرل کیانی نے نواز شریف اور زرداری کو ایستادہ کیا اور بعد ازاں اس کے عوض ایکسٹینشن لی۔
کیا ہی دور تھا اور کیا ہی جمہوریت تھی کہ ملک کے صدر کو اپنے گھر سے فرار ہونا پڑا کیونکہ ان کو مارنے کی سازش ہوچکی تھی۔
یہ پہلے پانچ سال تھے جس میں لگاتار لولی لنگڑی جمہوریت سٹاپو کھیل رہی تھی، وزیرآعظم یوسف رضا کو سرکاری ملازموں نے مل کر نکال دیا، کیا ہی جمہوریت ہوگی آپ خود سوچ لیں۔
تاج کے لئے ایک بنا بالوں کا سر چنا گیا۔
پھر اس بنا بال کے سر نے اپنا قاتل اور اپنا دلدار باجوہ چنا اور پھر باجوہ نے پہلے سے چنے ہوئے ایک بڈاوے کو چنا اور پھر اس بڈاوے نے پنجاب کے لئے ایک اور بڈاوا چنا۔
کیا ہی جمہوری دور تھا،صحافیوں کو نوکریوں سے نکلوایا گیا،قتل کروائے گئے،سیکٹر کمانڈرز کی ایک ڈیوٹی اراکین اسمبلی کو بلیک میل کرنا قرار پائی، آئی جی سندھ کو شب خوابی کے لباس میں طلب کیا گیا۔
اتنی زیادہ جمہوریت تھی کہ کیا کہنا۔
وہ پاگل ہوگیا تو مالک نے بدل دیا اور پھر آج کا جمہوری دور آیا۔
ایسا جمہوری دور کے بڈاوے کا دور اس کے مقابلے میں ہیچ لگے۔
اگر اس قوم نے تھوڑی بہت جمہوریت دیکھی ہے تو وہ دو ہزار آٹھ سے دو ہزار سترہ کے درمیان تھی لیکن اس چاند کو باجوہ اور کیانی والے گرہن لگے ہوئے تھے،جنرل ظہیرالاسلام کے دھرنے، ڈان لیکس اور میمو گیٹ سیکڈل گھڑے جا رہے تھے۔
تو یہ ہیں سکس شیڈر آف گرے۔
ان میں سفید کچھ نہیں ہے۔
جناح، ایوب، یحیی، بھٹو، ضیا، مشرف آمر تھے۔
زرداری، نواز، عمران، فضل الرحمن، الطاف حسین اور ایمل ولی خان ساشے میں آمر ہیں، ان کی جماعتوں میں نہ جمہوریت ہے نہ آزادی رائے۔
یہ سب اختلاف رائے کے خلاف ہیں۔
یہ اپنی ذات کے سامنے غلام حیدر وائیں، قائم علی شاہ اور عثمان بزدار جیسے غلاموں کو ہی تھوڑی سی آزادی دیتے ہیں۔
سچی بات بتاؤں؟ یہاں کے لوگوں کو پسند بھی یہی ہے اور اس آمریت پسندی کی وجہ ان کے مذہبی رحجانات میں ہے۔

