کالم

ڈائیلاگ کے بجائے قطعیت اور پاکستانی معیشت، کامران طفیل کا کالم

اکتوبر 4, 2025

ڈائیلاگ کے بجائے قطعیت اور پاکستانی معیشت، کامران طفیل کا کالم

بعض دوست آج کل پاکستانی معیشت کی زبوں حالی پر آزردہ ہیں۔
راقم الحروف بھی گاہے بگاہے اس معاملے میں اپنی رائے کا اظہار کرتا رہا ہے۔

پاکستان کی معیشت ملٹی پل آرگن فیلئیر کا شکار ہے، یہ بہت عرصے سے آئی سی یو میں ہے۔
اس معیشت کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔

دنیا میں بہت سے ممالک اس قسم کی صورتحال کا شکار ہوئے بھی اور مسلسل کوشش کے بعد جانبر بھی ہو گئے۔

کچھ روز پہلے بھی لکھا تھا کہ آئی سی یو میں مینیجر کا کام بس مریض کو زندہ رکھنا ہوتا ہے۔
ایسے میں یہ ہی سب سے بڑا ٹاسک ہوتا ہے نہ کہ مریض کو جاگنگ کروانا۔

ایک گھر جس کی آمدن 200 روپے ہو اور اخراجات 400 روپے، وہ کب تک ادھار لے کر یا کاروباری اصطلاح میں ٹوپی گھما کر زندہ رہ سکتا ہے۔

اس ساری ٹیڑھ میں کسی ایک فریق پر الزام دھرنا بھی صرف اپنے سیاسی تعصب کی تسکین کرنا ہے۔

آپ دنیا کے کسی بہترین ٹیکنوکریٹ کو بھی لے آئیں گے وہ اپنی لمیٹیشن یا حدود کا شکار رہے گا اور دوسری طرف سٹیک ہولڈرز یا شراکت داروں کے ساتھ اس کی کھینچا تانی بھی جاری رہے گی، بدقسمتی سے یہ سٹیک ہولڈرز عوام نہیں بلکہ اشرافیہ کا ایک خاص طبقہ ہے۔
اس ساری معاشی زبوں حالی کے باوجود یہ طبقہ آپ کو پھلتا پھولتا نظر آتا ہے۔

چونکہ یہ زمانہ فاضل دوستوں یعنی چاہت فتح علی خانوں کا ہے جو ہر چیز کے آسان حل اور بے سروپا دعووں کا انبار لگانے کے شائق ہیں تو سمجھنا یا ماننا انہوں نے نہیں۔

پاکستان انڈسٹریلائزیشن کی ٹرین مس کر چکا ہے، یہ ٹرین شاید اب دوبارہ اس سٹیشن پر نہیں آئے گی۔
آپ چاہے الٹی قلابازی لگا لیں تو بھی جلدی سے انرجی کاسٹ کو کم نہیں کر سکیں گے، پچھلے چھ سات سال میں اتنی زیادہ سولرائزیشن ہو چکی ہے کہ اب کوئی بھی سرکار سے بجلی بحالت مجبوری ہی لے گا یعنی وہی طبقہ جو سرکاری سکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھا رہا ہے اور وہی طبقہ جو سرکاری ہسپتال استعمال کرتا ہے، ڈیمانڈ سکڑنے اور کیپیسٹی زیادہ ہونے کا یہ تفاوت بڑھتا رہے گا اور اس ٹرین نے اس بند گلی کے آخر تک جانا ہے۔

دفاعی اخراجات کم کرنے میں ایک رکاوٹ تو سیاسی اور خطے کی صورتحال ہے اور دوسری فوجی اشرافیہ کی اقتدار پر گرفت ہے۔

وفاق اور صوبوں میں وسائل کی تقسیم بھی ایک بہت بڑا آتش فشاں ہے، سیاسی جماعتیں اب علاقائی جماعتیں بن چکی ہیں اور اپنے اپنے علاقائی تعصب کو ہی الیکشن کمپین بناتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس ساری صورتحال سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے بھی یا نہیں؟

میری نظر میں اس کا راستہ ایک لمبی اور مربوط پالیسی ہے جو ٹیکسٹ بک پالیسی نہیں ہوسکتی بلکہ بقول خرم مشتاق یہ آؤٹ آف باکس پالیسی ہوگی۔

مربوط پالیسی کا مطلب تمام سٹیک ہولڈرز کا اکٹھے ہونا ہے، پرانا سب کچھ بھولنا اور اس گاڑی کو نئے سرے سے چلانے کے قواعد و ضوابط طے کر کے سخت ڈسپلن کا مظاہرہ کرنا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں آمریت ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر رائج ہو چکی ہے اسی لئے سٹیک ہولڈرز بھی ڈائیلاگ کی بجائے ایکسٹریم پوزیشنز لینا پسند کرتے ہیں۔

فروری 2024 کے الیکشن نے جو بددلی عوام میں پیدا کی ہے اور سسٹم سے مایوسی کا جو ماحول پیدا کیا ہے اسے ہماری اشرافیہ سمجھنے سے قاصر ہے کیونکہ ان کا عوام سے کوئی تعلق ہی نہیں۔

عوام کو اس طرح سے ڈی ٹیچ کرکے ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔

کچھ بڑا کرنے کے لیے ہائی سیلف اسٹیم درکار ہوتی ہے اور اس وقت پاکستانی قوم تاریخ کی کم از کم سیلف اسٹیم پر موجود ہے۔
جو کچھ اس وقت معاشی مینیجرز کر رہے ہیں شاید اس سے زیادہ وہ نہ کر سکیں۔
مسئلہ مینیجر میں نہیں بلکہ لیڈر میں ہے،کیونکہ لیڈر کا کام لمبی مدت کی پلاننگ ہوتا ہے جبکہ مینیجر صرف ایگزیکیوٹ کرتا ہے۔

خرم مشتاق کی تحریر میں معیشت کو درپیش تکنیکی نکات جیسے فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کا کم ہونا، ڈی انڈسٹریلائزیشن ہونا،انرجی کاسٹ وغیرہ سمپٹمز ہیں کاز نہیں۔
ان پر ہم تکنیکی گفتگو کرتے رہیں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے