کالم

اس صدی کا مقدمہ، سابق اٹارنی جنرل مخدوم علی خان کی تحریر

اکتوبر 6, 2025

اس صدی کا مقدمہ، سابق اٹارنی جنرل مخدوم علی خان کی تحریر

ترجمہ و (حوالہ جات) : مطیع اللہ جان

جوانی کی محبت میں ایک لمحے کا انتظار صدیوں برابر محسوس ہوتا (تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں جیسے صدیاں بیت گئیں)۔ عمر گزرنے کے ساتھ جوش و جذبات ٹھنڈے پڑتے جاتے ہیں، صبر و تحمل کردار کی خوبی بنتا اور کسی بات پر فوری ردِعمل عجیب لگتا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کی عدالتوں میں مقدمہ بازی بڑھتی عمر کے افراد (فریقین و وکلا) کے لیے ٹھوس تیاری کی متقاضی ہوتی ہے۔ وکالت کے پیشے میں آتے ہی انسان کو طویل عرصے کا انتظار اور غیرفعالیت کو اپنی تربیت کا حصہ بنانا پڑتا ہے اور اس دوران خود پر مصروفیت کا خول بھی چڑھانا ہوتا ہے۔

چھبیسویں آئینی ترمیم کو منظور ہوئے ایک سال بیت گیا ہے اور اس صدی کا اہم ترین مقدمہ (پاکستان کے لیے) سماعت کے لیے مقرر ہو چکا ہے۔ یہ تاخیر پاکستان کے عدالتی نظام کے گرتے ہوئے معیار کے مطابق بھی بہت صبر آزما ہے۔ یوں تو بہت سے اہم مقدمات بھی سپریم کورٹ میں سنے گئے مگر اِس جیسا کوئی بھی کیس نہیں ہے جس کے فیصلے پر آزاد عدلیہ کے وجود کا انحصار ہے یا پھر عدلیہ کو دیگر ریاستی اداروں جیسا ہی رتبہ ہی مل جاتا۔

بلاشبہ ہمارے ملک کے آئینی مستقبل قریب کا انحصار اس مقدمے کے فیصلے پر ہو گا۔(جیسا کے جنرل مشرف کے دور کے اقبال ٹکا کیس نے آج کے حالات کی بنیاد رکھی)

سپریم کورٹ کے سامنے چھبیسویں آئینی ترمیم کے مقدمے میں بہت سے معاملات اُٹھائے گئے ہیں اور کچھ نئے معاملات اُٹھ جائیں گے جن میں ججوں بشمول ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کی تعیناتی، عدالتی کمیشن کی ہیئت و تشکیل اور جوڈیشل کمیشن میں اُن وکلا اراکین کی شرکت کی مناسبیت (propriety) کیونکہ یہی اراکین کمیشن بطور وکیل اُن ججوں کے سامنے اپنے موکلین کے مقدمات بھی لڑتے ہیں جن کو وہ بطور رکن کمیشن تعینات کرتے ہیں، ان کی مستقلی کرتے ہیں، اُن کا تبادلہ کرتے ہیں یا ان کی ترقی (سپریم کورٹ میں تعیناتی) کرتے ہیں۔ ان تمام آئینی اور قانونی سوالات کی اھمیت اپنی جگہ مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کے تسلط سے آزاد عدلیہ کے بطور ادارہ وجود کو درپیش خطرہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ آئین کی شق ۱۹۱ کے تحت تشکیل کردہ آئین کو دی گئی ذمے داری اور ایک سے زیادہ آئینی بنچوں کی تشکیل کی اجازت ہے۔
اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ ۲۶ویں ترمیم کے بعد بنائے گئے آئینی بینچوں کو سپریم کورٹ کے دیگر بینچز پر فوقیت حاصل ہے۔ آئینی بینچ پر موجود یہ وہ ججز ہیں جو (آئینی بینچز میں غیرموجود) چیف جسٹس اور دیگر ججز کے بغیر ہی ہائی کورٹس سے آنے والی تمام اُن اپیلوں کا فیصلہ کر سکتے ہیں جن میں کسی قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہو یا آئین کی کسی شق کی تشریح سے متعلق بنیادی قانونی سوال اُٹھایا گیا ہو۔ آئین میں درج بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق کسی بھی شھری کی درخواست ہو یا کسی بھی شیطان سرکار کی طرف سے اختیارات سے تجاوز کا معاملہ ہو آئینی بینچز کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

سپریم کورٹ میں براہ راست لائے گئے معاملات جیسے کہ انتہائی اہم قانونی اور آئینی معاملات پر عدالتِ عظمیٰ کے مشاورتی اختیار کے تحت صدرِ مملکت کی طرف سے بھیجے گئے صدارتی ریفرنس ہوں یا بین الصوبائی تنازعات ہوں، صوبوں یا صوبے اور وفاق کے درمیان تنازع ہو، صرف اور صرف آئینی بینچ ہی اُس کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان پہلے کی طرح سپریم کورٹ کے ایک رسمی سربراہ ہیں، ریاست اور قوم پر اثر انداز ہونے والے اہم قومی اور آئینی معاملات میں وہ بے اختیار اور اُن کی رائے کی کوئی وقعت نہیں، مقدمات کے مقرر ہونے اور سماعت یا عدالتی فیصلوں سے اُن کا کوئی تعلق نہیں، اُن کی حیثیت سڑک کنارے کھڑے ایک تماش بین سے زیادہ کچھ نہیں۔ انگریزی کے شاعر میتھیو آرنلڈ کے الفاظ میں "ایک خوبصورت اور بے ضرر فرشتہ اپنے روشن اور چمکیلے پروں کو (ہوا کے بغیر) خلا میں بے مقصد پھڑپھڑا کر خود پر تفاخر کرتا تھا”

چیف جسٹس کی اس بے اختیاری سے بھی زیادہ اہم بات آئینی بینچوں کی آزادی سے فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے، ججوں کی مدت ملازمت کا تحفظ عدلیہ کی آزادی کا مرکزی ستون ہوتاہے مگر چھبیسویں ترمیم نے اس ستون کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، چھبیسویں ترمیم کے مطابق آئینی بینچ پر موجود جج کون ہوں گے اور کتنی مدت کے لیے ہوں گے اس کا فیصلہ صرف جوڈیشل کمیشن ہی کر سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کے ججوں کی مدت ملازمت 65 سال ہے یا پھر ان کو سینئیر ساتھی ججز کی سفارش پر (جوڈیشل کونسل) نکالا جا سکتا ہے۔ کون سا مقدمہ کس بینچ نے سننا ہے یہ ہمیشہ سے جج حضرات ہی کا استحقاق رہا ہے، اور جب جج صاحبان کسی مقدمے کی سماعت شروع کر دیتے تو پھر "ماسٹر آف روسٹر” کہلانے والا چیف جسٹس بھی وہ مقدمہ کسی اور بینچ کو منتقل نہیں کر سکتا تھا، اس حوالے سے (مقدمات کی منتقلی) انتظامی (حکومتی) یا قانون سازی (پارلیمنٹ) کے ذریعے کی گئی کوئی بھی مداخلت اختیارات کی تقسیم کے نظریے (doctrine of separation of powers) کی خلاف ورزی ہونے کے باعث بلا تردید غیرآئینی ہے۔ جبکہ موجودہ جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے ججز کی اکثریت نہیں اور یہ کمیشن کسی بھی وقت اپنی مرضی کے مطابق کوئی بھی بینچ تبدیل کر سکتا ہے اور کوئی بھی قوت جوڈیشل کمیشن کو کسی بھی زیر سماعت مقدمے کو دوسرے بینچ میں منتقل کرنے سے نہیں روک سکتی۔

ہمارے عدالتی ڈھانچے میں سول جج سب سے نچلی سطح پر کام کرتا ہے مگر اُس کی بھی اس طریقے سے اکھاڑ پچھاڑ نہیں کی جا سکتی، چھبیسویں آئینی ترمیم کے آئینی بینچ کی آزادی پر پڑنے والے اثرات کی یہ ایک طائرانہ نظر ہے۔ مگر کمیشن کے اندرونی کام سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ آئینی بینچ کی تشکیل اور مدت سے متعلق تمام فیصلوں میں حکومت کا بڑا کردار ہے اور دوسری طرف ہر مقدمے میں حکومت فریق ہوتی ہے، صرف یہی حقیقت ججوں کی آزادی پر عام سائل کے عدم اعتماد کے لیے کافی ہے، عدلیہ کی غیرجانبداری پر اعتماد کے فقدان کے بعد عدلیہ کے ساتھ وہی ہو گا جو ایک انسان کے لاش بننے کے آخری مرحلے میں ہوتا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے