کالم

ادب کا نوبیل، سینتنتاگو اور میرپور ماتھیلو کی رینا، علی ارقم کا کالم

اکتوبر 10, 2025

ادب کا نوبیل، سینتنتاگو اور میرپور ماتھیلو کی رینا، علی ارقم کا کالم

علی ارقم – صحافی

رینا رند نے جینے سے انکار کیوں کیا

گھوٹکی کے قصبے میرپور ماتھیلو میں اپنے چچا کے ساتھ سکول جاتے ہوئے فائرنگ کے دوران موٹر سائیکل سے گر کر زخمی ہونے والی بچی رینا رند کی موت کی خبر روح فرسا ہے

رینا رند کو معمولی چوٹیں آئی تھیں، انہیں ہسپتال لے جایا گیا، جہاں طبی امداد کے بعد انہیں گھر بھیج دیا گیا، بعد میں ان کی حالت بگڑ گئی اور ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی میں دم توڑ گئی

رینا رند کی ایک چھوٹی سی ویڈیو کلپ گردش میں ہے جس میں وہ ان کی طرف کیمرہ پکڑے سوشل میڈیا پر چند کلکس کے لیے ان کے المیے کو کیش کرنے والے سے کہتی ہے، پہلے کون سا انصاف دلایا ہے جو اب دلواؤ گے، جاؤ ہٹو اپنا کام کرو

اس کیمرہ والے کا تو کام ہوگیا، اسے فوٹیج اور ساؤنڈ بائیٹ مل گئی، لیکن رینا رند اپنے لفظوں اور اس سے ظاہر ہوتی بے بسی اور بیچارگی کا بوجھ نہیں سہہ سکی، اس کے جسم نے ہمت ہار دی اور وہ رخصت ہوگئی، وہ اپنے مقتول چچا طفیل رند سے جا ملی

صحافی طفیل رند کو اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ اپنے دو بچوں اور بھتیجی رینا رند کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر سکول چھوڑنے جا رہے تھے.

قتل کرنے والے نے بعد میں ویڈیو بیان بھی جاری کیا کہ اس نے اپنے بیٹے کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے طفیل رند کو قتل کیا ہے، خاندانی دشمنی کے اس سلسلے کا یہ تیسرا قتل تھا اور اگر رینا رند کی موت کو بھی ان واقعات کا نتیجہ اور تسلسل مانا جائے تو اب تک چار قتل ہو چکے ہیں

پولیس حکام کے لہجے میں اطمینان ہے کہ یہ قتل نامعلوم نہیں ہے، قتل کی وجہ واضح ہے، قاتل نے خود بیان جاری کرکے ان کی مشکل آسان کر دی ہے، اس اطمینان کا اظہار اس پولیس آفیسر کے بیان میں بھی ہے کہ وہ طفیل رند کے ساتھ رابطے میں تھے اور اس کے خدشات اور شکایات پر مخالف خاندان کے بندے پکڑتے رہے ہیں.

باقی اب اگر طفیل رند قتل ہوگیا تو ظاہر ہے ہونی کو کون ٹال سکتا ہے ظاہر ہے پاکستان میں قانون نافذ کرنے کا مطلب واردات، حادثے، سانحے، واقعے کے بعد کاروائی کرنا یا کاروائی ڈالنا ہے، جرم کا سدباب کرنا، بر وقت روک تھام تو شاید قدرت کے کاموں میں مداخلت سمجھی جاتی ہے

رینا رند کی وائرل ویڈیو میں یہی شکوہ ہے اور اس کا جینے سے انکار بھی ایک طرح کا احتجاج ہے

ایسا ہی احتجاج، جو حال ہی میں ادب کا نوبل انعام جیتنے والے ہنگری کے ادیب لازلو کرازنا ہورکائی کے انگریزی میں ترجمہ ہونے والے ناول سینتنتاگو میں زہر کھا کر خودکشی کرنے والی نو عمر لڑکی کے کردار آسٹی کرتی ہے

سینتنتاگو ایسے گاؤں کا قصہ ہے جہاں بے بسی و بیچارگی کے شکار لوگ کسی مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں، وہ گاؤں جہاں مسلسل بارش برس رہی ہے، جہاں کی کیچڑ زدہ ٹوٹی پھوٹی سڑک اس گاؤں کا باقی دنیا سے رابطہ برقرار رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے

رینا اور آسٹی کے مرنے کا طریق کار مختلف لیکن نتیجہ ایک ہی ہے، بھلے ہی حالات و عوامل کا جبر ہو ان کی موت کو قتل کسی نے قرار نہیں دیا

میرپور ماتھیلو میں بارش نہیں ہوتی اس لیے بہت زیادہ گرد اڑتی ہے، اس کا باقی ماندہ سندھ سے رابطہ بھی منقطع نہیں ہوا، اس کے المیوں اور سانحوں کی خبریں، ویڈیوز، مقتولین کی بیچارگی اور قاتلوں کا اعتراف دونوں سوشل میڈیا پر موجود ہیں

قاتل اور مقتول میں ایک بات جو مشترک ہے وہ نظام انصاف پر عدم اعتماد ہے، یعنی وہ سینتنتاگو کی طرح مسیحا سمجھے جانے والے کے ہاتھوں روا رکھے جانے والے جور و ستم سے گزر رہا ہے

دو ہزار دس کے سیلاب زدگان پر اپنی رپورٹ میں وسعت اللہ خان نے جنوبی پنجاب کے ایک مصیبت زدہ بابا سے بات کی تو اس نے کہا تھا کہ ستر میں بھی سیلاب آیا تھا، لیکن بھٹو کاپٹر (ہیلی کاپٹر) میں بیٹھ کر آیا، انہیں گلے لگایا تو سب دکھ دور ہوگئے تھے

پھر کہا، شہباز شریف (اس وقت وزیر اعلی پنجاب) بھی کاپٹر میں بیٹھ کر آیا لیکن ویسا نہیں تھا جیسا کہ بھٹو تھا

سندھ میں تو بھٹو کا نام سکہ رائج الوقت ہے، بھلا ہو آصف بھٹو زرداری کا کہ اس نے شوگر کارٹیلز کا ایسا میٹھا وار چلایا کہ پورے سندھ کی سیاسی اشرافیہ کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کرادی، پیپلز پارٹی کا دامن تنگ ہوا تو عوام کو دھکیل کر نکال باہر کیا اب صرف حکمران پیپلزپارٹی بچی ہے اور بس

جو سندھ کو بلوچستان اور پاکستان کو سندھ بنانے پر تلی ہے

رہنا رند سے کوئی پوچھے کہ یہاں تو بھٹو ہے پھر تمہیں انصاف کی امید نہیں تھی، انتظار بھی نہ کیا اور آنکھیں موند لیں تو شاید وہ یہی کہتی:
چلو، ہٹو اپنا کام کرو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے