انسانی تکلیف و تجربے کی مرکزیت اور کالونیل نرگسیت (نارسیس ازم)
انسانی تکلیف و تجربے کی مرکزیت اور کالونیل نرگسیت (نارسیس ازم)
علی ارقم – صحافی
استعماری نرگسیت یا کالونیل نارسیس ازم ایک ایسا فکری اور عملی رویہ ہے جس میں طاقت پر اجارہ داری کا حامل فریق یعنی سامراج یا نو آبادیاتی طاقت، نیو کالونیل ریاست یا مین سٹریم کا کوئی میجارٹیرین گروہ یا طبقہ خود کو عقل، تہذیب اور اخلاق کا معیار سمجھنے لگے
ان کا فکری نظریاتی بازو اپنے ان حریفوں کو (جو سابق حلیف بھی ہوسکتے ہیں) جاہل، وحشی، غیرمہذب، جذباتی، یا عفریت وغیرہ قرار دیتا ہے۔
اس نارسیس ازم یعنی نرگسیت کے تحت نہ صرف دوسروں پر غلبے کیلئے دلائل ڈھونڈ کر لائے جاتے ہیں، بلکہ ان کا نشانہ بننے والے لوگوں کی تکلیف کو غیرضروری اور ان کے تجربے کو غیرحقیقی ثابت کرنے کا ایک اخلاقی جواز بھی فراہم کیا جاتا ہے
نتیجتاً، طاقتور کی تشدد آمیز کارروائیاں اصلاح یا نظم قائم کرنے، معروف معنوں میں کہیں تو ریاست کی رٹ بحال کرنے کے نام پر درست قرار پاتی ہیں، جبکہ تشدد کی زد میں آنے والے فریق کی تکلیف یکسر نظرانداز ہو جاتی ہے۔
ترقی پسند فکر اس رویے کو چیلنج کرتی ہے، ان کے نزدیک ہر سیاسی و اخلاقی بحث کی بنیاد انسانی تکلیف اور تجربے پر ہونی چاہیے، کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں طاقت اور انصاف کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔
جب کسی بحث میں انسانی تکلیف کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے، تو تشدد کا جواز خود بخود اہمیت کھو دیتا ہے، لیکن جب طاقتور کا بیانیہ غالب آتا ہے، تو وہ انسانی دکھ کو کولیٹرل ڈیمیج یا قانونی کارروائی یا ریاست کی رٹ کی بحالی کے پردے میں لپیٹ کر ان وزیبل کردیتا ہے اور یوں تشدد پسندی یا حد سے تجاوز کو اخلاقی جواز دیا جاتا ہے
اس لیے انسانی تجربے اور تکلیف کو مرکزیت دینا دراصل طاقت کے بیانیے کے خلاف ایک اخلاقی مزاحمت ہے
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ریاست یا نظریہ نہیں، انسان ہی اصل قدر ہے اور اگر کسی نظام یا احتجاج کے تجزیے میں انسان کی تکلیف ان وزیبل ہو جائے، تو وہ بحث انصاف سے خالی ہو جاتی ہے، چاہے وہ بہت ہی لاجیکل کیوں نہ لگے
اس لیے جلیانوالہ، قصہ خوانی، بابڑہ، مزدور احتجاج پر فائرنگ، لیاقت باغ، دیہی و شہری سندھ میں متعدد آپریشن، بلوچستان میں آپریشنز کا لامتناہی سلسلہ، پختونخوا میں جنگ کی دہشتگردی کے عنوان سے ان گنت آپریشن جانے کیا کیا کچھ ہو چھبیس نومبر ہو یا بارہ مئی یا مریدکے میں ریاست کی رٹ کی بحالی، میں ان سب کی کسی قسم کی بھی وکالت سے برات کا اظہار کرتا ہوں چاہے کوئی کچھ بھی عنوان دے اسے
پس نوشت
حنّا آرنٹ نے نازی جرمن افسر ایخمن کے مقدمے کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا تھا کہ برائی ہمیشہ کسی شیطانی یا غیرمعمولی شخصیت کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ اکثر یہ عام انسانوں کی اطاعت، لاپرواہی، اور اخلاقی سوچ کی غیرموجودگی سے جنم لیتی ہے۔
آرنٹ کے مطابق جب ریاست یا سماج کسی گروہ کو غیرانسانی قرار دے دیتا ہے مثلاً کسی مذہبی، نسلی یا سیاسی گروہ کو وحشی یا کم تر کہنا تو یہ رویہ تشدد کے لئے ایک معمول اور جائز راستہ تیار کر دیتا ہے۔
لوگ ریاست یا سماج کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور یوں تشدد کو اخلاقی یا قانونی جواز فراہم ہو جاتا ہے۔ اس نظریے کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ طاقتور ادارے اور سماجی بیانیے کس طرح عام شہریوں کو غیر انسانی اعمال میں حصہ لینے پر آمادہ کرتے ہیں، بغیر اس کے کہ وہ خود کسی شیطانی نیت کے حامل ہوں۔
ہم نے غزہ میں انسانیت سوز تشدد کے باب میں اسرائیل کی وکالت کرنے والوں اور دنیا کے کسی بھی حصے میں ریاست کے پیر تلے روندے جانے والوں کیلئے جواز فراہم کرنے والوں میں یہی طرز عمل دیکھا ہے

