کالم

پاکستان میں بسنے والی اقوام کے ایکو چیمبر: علی ارقم کا کالم

اکتوبر 22, 2025

پاکستان میں بسنے والی اقوام کے ایکو چیمبر: علی ارقم کا کالم

پاکستان کے وفاقی بندوبست میں موجود جغرافیائی خطے اور ان پر بسنے والی اقوام اپنی تاریخ، ثقافت، زبان و ادب رکھتی ہیں، پاکستانی وفاقی بندوبست کی اس آٹھ دہائیوں کی تاریخ میں کہیں وہ آپس میں متوازی سمت میں چلی ہیں، کہیں انٹرسیکٹ اور انٹر ایکٹ کیا ہے اور کبھی متصادم بھی رہی ہیں

اس بندوبست میں موجود سب سے بڑی قوم یعنی بنگالی تو پچیس سال میں ہی واک آؤٹ کرگئے اگرچہ پاکستانی مقتدرہ اور ان کی اتحادی سیاسی اور مذہبی قوتوں نے دامے درمے سخنے کوشش کی کہ انہیں بزور قوت ساتھ رکھا جاسکے لیکن خیر

جو ہوا تاریخ معلوم ہے پڑھنے اور تسلیم کرنے والوں کو

اب باقی ماندہ اقوام پر وفاقی گرفت بھی مضبوط ہے جغرافیائی اور سیاسی عوامل بھی ایسے ہیں کہ سب کو چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی کسی سیاسی سمجھوتے کے ساتھ مل کر رہنا ہے

یہ الگ بات ہے کہ اس وقت جس قسم کی پولرائزیشن ہے، اس میں ہر قوم اور ان کا بولنے اور سنائی دینے والا طبقہ اپنے اپنے ایکو چیمبر میں ہے، باہمی مکالمے کا کوئی سازگار ماحول نہیں ہے

پہلے یہ مسئلہ سندھ کا تھا وہ کہتے تھے کہ ان پر ستر اسی کی دہائی. میں جو بیتی اس کا دیگر اقوام کو نہ اندازہ ہے نہ احساس

پھر بلوچوں نے کہا، ہم ناراض نہیں بیزار ہیں سب سے، ان کے پاس اس سب کی ٹھوس وجوہات بھی ہیں

پھر مہاجر آئے، شناخت سے معاملہ اٹھا، جائز قسم کی شکایات پر سیاسی صف بندی کی اور ہوتے ہوتے باقاعدہ فاشسٹ اور انتہائی متشدد قسم کی قوت میں ڈھل گئے، ریاست سے مار بھی کھائی، اب وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم ہی اصل مظلوم ہیں

پھر پشتون سیاسی بیانیے کے افق پر ایک نان وائلنٹ مزاحمتی قوت نمودار ہوئی، کچھ ریاستی تذویراتی کھیل، کچھ سیلف انفلکٹڈ زخم خوردگی، لیکن بات سولہ آنے ٹھیک کرتے تھے، ابتدا میں ہم نے بارہا کوشش کی کہ اسے دیگر اقوام کے ساتھ شراکت نہیں تو ہم آہنگی اور انڈرسٹینڈنگ کی راہ چننے پر آمادہ و استوار رکھا جائے لیکن یار لوگوں نے دلائل تراشے کہ ہمارے اور ریسٹ آف پاکستان میں تو کچھ بھی مشترک نہیں، ہماری تو گائے بھینس کا منہ بھی ان کی گائے بھینس کے منہ سے مختلف ہے، خیر

وہ گئی بات گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی، تو مجھے یاد ہے کراچی کے دنوں میں، آئی بی اے کے جرنلزم کے ادارے میں ایک صحافی دوست نے بطور ایکسٹرنل ایگزامینر مدعو کیا، دو طالب علموں نے اپنے ماسٹر تھیسز کے حصے کے طور پر ڈاکومنٹری فلمیں دکھائیں جس میں ایک گلگت بلتستان کے بارے میں تھی، جسے دیکھنا ایک چشم کشا تجربہ تھا، میں نے اعتراف کیا کہ جو نا انصافی وہاں ہورہی ہے وہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے کسی طور کم نہیں (تشدد کے عنصر کو چھوڑ کر)

لیکن باقی پاکستان کو کیا پتا، انہیں تو شمالی علاقہ جات صرف سیاحتی منزل لگتا ہے جیسے اکثر لوگ سوات کا بھی یہی تعارف جانتے ہیں

کشمیر میں جو ہورہا ہے، اس کے بارے میں اب کہیں جاکر کچھ پتا لگنا شروع ہوا ہے، جب وہاں سے سیاسی احتجاج کی خبریں آنے لگی ہیں

سرائیکی بطور جداگانہ شناخت اور قوم ایک حقیقت ہے، ان کا جغرافیہ ہے اپنا، دہائیوں سے اپنی سیاست رہی ہے، چاروں صوبوں میں بٹی ہوئی ہے، ان کی طرف انٹیلی جنسیا کا یہ حال ہے کہ بلوچستان میں بلوچ کہتا ہے مردم شماری میں خود کو بلوچ لکھو تاکہ پشتونوں کے مقابل ہمارا نمبر کم نہ پڑے

سندھ میں سندھی کہتا ہے، خود کو سندھی کہنا ہی درست سیاست اور سندھ دھرتی سے محبت کا عین تقاضا ہے، پنجابی کہتا ہے کون سرائیکی؟

پختونخوا میں وہ جن اضلاع میں آباد ہیں، وہاں کی سیاسی ضرورتیں ان کی سیاسی اشرافیہ کو پشتون شناخت کا ضمنی حصہ بنے رہنے پر مجبور کیے ہوئے ہیں

پنجاب کو دیکھیں، پنجاب میں ایسی آوازیں ہیں جو وفاقی بندوبست میں اپنی بالادست اور غالب حیثیت اور حاصل شدہ پریولجز کو ماننے کے بجائے، آبی وسائل، پیداوار اور مالیاتی وسائل کی تقسیم میں متفقہ علیہ بندوبست کو تسلیم کرنے کے بجائے بندوق، سیاست، اور میڈیا پر شور شرابے اور ٹرول آرمیز کے بل پر اپنی بات منوانا چاہتے ہیں

ان کا اپنا ایک ایکو چیمبر ہے جو کہتا ہے اجی پنجابی تو سب سے زیادہ وسیع القلب ہے، دریا دل ہے، پھر کہتا ہے ہم تو اب گالی کا جواب بھی گالی سے دیں گے، خدا کرے کہ بات صرف گالی دینے پر ہی آجائے

اس نقار خانے میں بندہ جائے تو کہاں جائے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے