جہاں پہ "سوچ” مقید ہے اور "کلک” آزاد، علی ارقم کی تحریر
نفسیات کے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اپنے مضمون میں جان ناسٹا نے ایک نہایت گہرا نکتہ اٹھایا ہے کہ ہم انسانوں نے اپنی سوچ، اپنی شعوری مشقت اور اپنے ذہنی ارتکاز کو آہستہ آہستہ مشینوں کے حوالے کر دیا ہے۔
جہاں کبھی انسان اپنے ذہنی صلاحیت کو بروئے کار لاکر الجھی گتھیاں سلجھاتا تھا، چیزوں کا سراغ پاتا تھا، اب وہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سے فوراً جواب حاصل کر لیتا ہے، اسے سوچ و فکر اور جستجو کی تکلیف سے نہیں گزرنا پڑتا جو کبھی علم کی بنیاد ہوا کرتی تھی۔
ناسٹا نے آج کے انسان کی اس صورتحال کا موازنہ دوستو فسکی کی کتاب نوٹس فرام انڈر گراؤنڈ کے ایک کردار کی پیش کردہ حالت سے کیا ہے، دوستو فسکی آگہی کو عذاب یعنی کاننشس نیس کو عارضہ یا بیماری قرار دیتا ہے، آگہی کا حامل شخص اپنی حد سے زیادہ سوچ بچار میں الجھ کر زندگی سے کٹ جاتا ہے، اس کردار کی طرح آج ہم مصنوعی یا ڈیجیٹل شعور کے جال میں ایسے الجھ چکے ہیں کہ سوچنا بوجھ اور کلک کرنا راحت بخش بن گیا ہے۔
آج جب ہمارے ذہن میں کوئی سوال ابھرتا ہے تو ہم غور و فکر کے بجائے فوراً اے آئی یا سرچ انجن سے رجوع کرتے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے ہم نے سوچنے کی ذمہ داری اپنے فونز اور لیپ ٹاپس کے سپرد کر دی ہے۔ یہ سہولت ہمیں عارضی تسکین دیتی ہے، مگر آہستہ آہستہ ہمارے تجزیے اور مشاہدے کی قوت کو زنگ لگا دیتی ہے۔
ہم جواب حاصل تو کر لیتے ہیں، لیکن فہم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جسے ناسٹا ادھار کا ذہن کہتا ہے، یعنی ایک ایسا ذہن جو اپنی شناخت، اپنی جدوجہد اور اپنی انفرادیت کھو بیٹھا ہو۔ ایسا ذہن جو زندہ تو ہے، مگر خود مختار نہیں۔
مضمون پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ یہ ڈیجیٹل بیماری ہمارے مطالعے کے رویے میں بھی سرایت کر گئی ہے۔ کتاب سے محبت کا دعویٰ اب اکثر سافٹ کاپی کے ذخیرے تک محدود ہو گیا ہے۔ کسی اچھی کتاب کا ذکر سن کر ہم فوراً انٹرنیٹ پر اس کی تلاش کرتے ہیں، اور جب وہ فائل ڈاؤن لوڈ ہو جاتی ہے تو ہمیں ایک جھوٹی تسلی مل جاتی ہے، گویا ہم نے کتاب حاصل کر لی، حالانکہ ہم نے اسے پڑھا تک نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہم نے اپنے فون کی میموری یا ہارڈ ڈرائیو کو اپنے دماغ کی توسیع سمجھ لیا ہے،
وہ شاعر نے اپنے محبوب کے بارے میں کہا تھا
دل کے آئینے میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
ہم نے کتابوں کے حوالے سے یہ رجحان اپنا لیا کہ یہ سوچ کر خود کو تسلی دے لیتے ہیں کہ پڑی ہوئی ہے کتاب، جب چاہا اٹھا کر پڑھ لیں گے، اکثر و پیشتر وہ لمحہ آتا ہی نہیں ہے
ایک اور بات، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا گروپس میں اکثر ایسے لوگ دکھائی دیتے ہیں جو نئی شائع شدہ کتابوں کی پی ڈی ایف مانگتے ہیں، اب اگر بین الاقوامی سطح پر چھپنے والی کوئی کتاب، اکیڈمک تحقیق یا ایسی دیگر کتابیں جو مقامی مارکیٹ میں دستیاب نہیں، وہ مانگیں تو سمجھ آتا ہے لیکن جو کتابیں مقامی سطح پر آسانی سے اور سستے داموں دستیاب ہوں۔ بعض اوقات پشاور میں چھپنے والی کوئی کتاب جو چند سو روپے میں دستیاب ہوتی ہے اور بالکل نئی چھپی ہوتی ہے، اس کی بھی پی ڈی ایف مانگ کر شرمندہ نہیں ہوتے
یہ رویہ نہ صرف مصنف کے حقِ محنت کی نفی ہے بلکہ علم کے وقار کے بھی خلاف ہے، جو لوگ محض کتاب کی سافٹ کاپی یعنی پی ڈی ایف چاہتے ہیں، وہ دراصل کتاب نہیں بلکہ اس تاثر خریدنا چاہتے ہیں۔ کتاب سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ انہیں مطالعہ کرنے والا سمجھا جائے، اب قاری کو کتاب پڑھنے کی نہیں، صرف کتاب کا ذکر کرنے کی ضرورت رہ گئی ہے۔ ایسے میں مطالعہ ادراک کا سفر نہیں رہا بلکہ آج کے سوشل میڈیا نے اسے ایک نمائشی فعل بنا دیا ہے۔
بھلا ہو اے آئی کا، اب تو معروف کتابوں کے مطالعے کی حاجت نہیں، پورے باب پڑھنے کے بجائے، خلاصے، چیپٹر آؤٹ لائنز اور تھیمز کی فہرستیں عام ہو گئی ہیں۔ گویا ڈیجیٹل کانشس نیس بیماری سے بڑھ کر وبائی صورت اختیار کر گئی ہے
ناسٹا آخر میں کہتا ہے کہ جب ہم سوچنے، کھوجنے اور غلطی کرنے کی گنجائش ختم کر دیتے ہیں، تو ہم دراصل انسان ہونے کا جوہر کھو دیتے ہیں۔
مشینیں پیش گوئی کر سکتی ہیں، مگر صرف انسان تجربے کو معنی میں بدل سکتا ہے۔ سوچنے کی مشقت، سمجھنے کے عمل میں صرف کیا وقت، الجھاؤ کو سلجھانے کا عمل ہی وہ جگہ ہے جہاں انسان ذہنی ارتقاء پاتا ہے۔

