’جمہوری ریوڑیاں اور سویلین بالادستی‘، امتیاز احمد وریاہ کا کالم
جناب ڈاکٹر سینیٹر افنان اللہ ’ایکس‘ پر فرماتے ہیں:’’ستائیسویں آئینی ترمیم میں کوئی ایسی شق نہیں جس سے جمہوریت اور سویلین بالادستی متاثر ہو۔‘‘
شاید بلکہ یقیناً انہوں نے درست ہی تو لکھا ہے، ملک میں جمہوریت اور سویلین بالادستی ہوگی تو اس کو نقصان پہنچے گا، جب وہ مفقود ہیں تو نقصان کاہے کو ہونے لگا۔ ماشاء اللہ وہ نہ صرف بالکل محفوظ ہیں بلکہ محفوظ ترین ہاتھوں میں ہیں۔ اس لیے ’فکرناٹ ٹیک حوصلہ‘۔
مرحوم مشاہد اللہ خان صاحب زندہ ہوتے تو اپنے فرزندِ ارجمند کے اس ملفوظے پر تڑپ اٹھتے۔ اب بھی قبر میں ان کی روح بے چین تو ضرور ہوئی ہو گی۔
اس آئینی ترمیم کی جو تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، بہت ہی خطرناک ہیں اور جمہوریت اور جمہوری اقدار کے لیے زہرقاتل۔ افسوس کہ فرعون کو پارلیمان کی نہ سوجھی۔
سینیٹر صاحب سے ایک گزارش ہے۔ ذرا پاکستان کے اور بالخصوص اسلام آباد میں سرکاری اداروں میں اعلیٰ مشاہروں کی حامل تگڑی اسامیوں پر حال ہی میں تقرر کی تفتیش وتحقیق تو کیجیے۔ اس ہائبرڈ نظام نے جس طرح مقتدرہ کے آگے سر نگوں کیا ہے، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ حتیٰ کہ جنرل پرویز مشرف یا جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی ایسی مداخلت نہیں ہوتی تھی۔ وزراء کا اپنے محکموں پر کوئی کنٹرول ہی نہیں۔
سابق سوویت یونین کی طرح نااہلوں کو اعلیٰ عہدوں پر بھرتی کرنے کی ریت دُہرائی جا رہی ہے اور ہمارے یہاں بھی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں پی ٹی وی میں ڈیجیٹل شعبے میں بھرتیاں ہوئی ہیں،وہاں سنتے ہیں؛ دو ایک صاحبان کی 15 ، 17 لاکھ تن خواہیں مقرر کی گئی ہیں۔ ادارے کے پاس سابق ملازمین کو پنشن دینے کے لیے رقوم نہیں اور نئے ملازمین میں ’اندھا بانٹے ریوڑیاں مُڑ مُڑاپنوں کو، کے مصداق جسمانی قد کاٹھ کے مطابق تول کر لوگوں کے پیکج مقرر کیے جا رہے ہیں، سرکاری خزانہ ہی ہے تو کیا ہوا، بہتی گنگا میں اپنے یار بیلی بھی اشنان کرلیں۔
اور یہ ریوڑیاں بانٹنے میں ایک اہم کردار تھے جناب طلعت حسین۔ ان کے حصے میں کتنی ’لذیذ‘ ریوڑیاں آئیں۔سینہ گزٹ بہت ہیں اور دو ایک تصویری شاٹس بھی۔
آپ نے میرٹ کی مدح سرائی میں سب سے زیادہ ارشاداتِ عالیہ ان ہی کی زبان مبارک سے سنے ہوں گے۔
یہ صرف ایک ادارے کا معاملہ نہیں، ذرا قوم کو’ انصاف کے ٹرک ‘کی بتی پیچھے لگانے والے جج صاحبان کے بھاری مشاہرے تو ملاحظہ کیجے لیجیے۔ بیس، پچیس لاکھ روپے ماہانہ تو کوئی بات ہی نہیں۔ایک ایک’ می لارڈ‘ کی ایک ایک لاکھ کی دیہاڑی فرماتے ہیں اور مجلسِ انصاف بنا انصاف برخواست فرما کر اٹھ جاتے ہیں۔
اب جس آئینی ترمیم کی مدح سرائی میں اربابِ اقتدار کی طرح ہمارے بعض صحافی بھائی رطب اللسان ہیں، ذرا معدودے چند شخصیات کے اقتدار واختیار کے دوام کے لیے اس کی تفصیل تو ملاحظہ کیجیے۔ اس کے بعد آئین کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ بڑے میاں سیدھے سبھاؤ ’دستوری بادشاہت‘ کا نفاذ کیجیے اور قوم کی روز روز کے ان ’جمہوری‘ تماشوں سے جان چھڑوائیے۔
حاتم طائی بھی کیا سخاوت کرتے ہوں گے، اس وقت سرکاری خزانے کے دونوں پٹ کھلے ہیں اور یہ ’گوئبلان وقت ‘اپنا اپنا حقِ نمک حاکمانِ وقت سے وصول پانے میں پیش پیش ہیں۔
ویسے، کیسے کرلیتے ہیں یہ لوگ۔

