کالم

پرانے انقلابی، نئے طوطا ہائے ثناء خوان: علی ارقم کا کالم

نومبر 11, 2025

پرانے انقلابی، نئے طوطا ہائے ثناء خوان: علی ارقم کا کالم

پرانے انقلابی، نئے طوطا ہائے ثناء خوان: علی ارقم کا کالم

اور جب تالیاں تھم گئیں تو حکمران نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ”میں ایک اور ریڈیکل انقلابی کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جو کبھی سامراج، سرمایہ داری، کالونیل ازم، نیو کالونیل ازم وغیرہ پر آگ اور شعلے برساتا تھا۔ اس کا نام کبھی ڈاکٹر لومینس کارامومبویا اِتویکا ہوا کرتا تھا

وہ اپنے لومینس (جگمگاتے) قلم سے انقلاب پر اُکساتا، انتہائی اشتعال انگیز تھا، وہ ماسکو کا بندہ مشرقی جرمنی کے انسٹیٹیوٹ آف مارکسسٹ ریولیوشنری جرنل ازم کا فارغ التحصیل تھا.

ایک زمانہ تھا، جب ہمارے کچھ پڑوسی، جو افریقی سوشلزم کی حماقت میں مدہوش تھے، اس کی خدمات حاصل کرتے تھے تاکہ وہ طبقاتی جدوجہد پر مشتمل انقلابی مضامین لکھے۔ مگر جیسے ہی یہ واضح ہوا کہ کمیونزم دم توڑ چکا ہے، اُس نے بھی
دانشمندی دکھائی اور اپنے تعارف سے "انقلاب” کا لفظ ہٹا دیا۔

میں نے کیا کیا؟ کیا اُسے قید کر دیا؟ نہیں۔ میں نے اُسے معاف کر دیا۔ اور اُس نے اپنی کارکردگی سے خود کو میری معافی کے لائق ثابت کیا ہے۔

ایک زمانہ تھا، وہ ایٹرنل پیٹریاٹ کے نام سے ایک زیرِ زمین اخبار جسے وہ کبھی ایڈٹ کرتا تھا، اس میں مجھ پر یہ الزام لگاتا تھا کہ میں نے ایک بھیڑوں کی قوم بنائی ہے۔ مگر اب وہ ڈیلی پیروٹ نامی اخبار میں اپنی ادبی تحریروں کے تازیانوں سے ان بھیڑوں کو سدھانے میں میری مدد کرتا ہے”

حوالہ
Wizard of the Crow (2006) by Ngũgĩ wa Thiong’o.

بشکریہ منظور علی، ڈان جو انہوں نے ندیم فاروق پراچہ کی ایک ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے پوسٹ کیا، ایک آدھ دن قبل نجم سیٹھی بھی جمہوریت کے چینی متبادل اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی قیادت کے حوالے سے ایسا ہی کچھ کہہ چکے ہیں.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے