بھٹو سے عمران تک، کون جمہوری؟، کامران طفیل کا کالم
نواز لیگ کے حامیوں کی خدمت میں دست بدستہ عرض ہے کہ دی اکانومسٹ چھوڑیں، کسی مذہبی کتاب میں لکھا ہوا مل جائے تب بھی عمران خان کو چاہنے والے اُن کے خلاف کسی بات پر یقین نہیں کریں گے۔ عمران خان کی کریڈیبلیٹی یا ساکھ اُن کے ماننے والوں کی نظر میں باقی تمام افراد اور اداروں و محکموں سے زیادہ ہے۔
زیادہ پرانی بات نہیں کروں گا اور ایک مثال سے ثابت کروں گا۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ جمہوری دور تھا۔ اب حقیقت کیا ہے بھلا؟
بھٹو سنہ 1971 کا الیکشن ہارا تھا، جیتنے والے کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا۔ تو جمہوریت کا اس سے کیا تعلق؟ پھر بھٹو نے پختونخوا اور بلوچستان میں اپنے سیاسی مخالفین کی حکومت کو ختم کیا جبکہ وہ ووٹ لے کر آئے تھے، اب اس بات کا جمہوریت سے کیا لینا دینا؟
بھٹو نے ان سب پر بغاوت کا جھوٹا مقدمہ بنایا جس کی سزا موت تھی، اب اپنے سیاسی مخالفین کو قتل کروانا کون سی جمہوریت ہوتی ہے؟
بھٹو نے ایف ایس ایف بنائی جس کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین کی مشکیں کسی جاتی تھیں۔ بھٹو نے سنہ 1977 کے الیکشن میں اپنے مقابلے میں کھڑے ہونے والے امیدوار اغوا کروائے, اب اس کا جمہوریت سے کیا واسطہ؟
بھٹو نے پہلا آئین بنا تو لیا مگر جب اسے لگا کہ یہ آئین اسے غنڈہ گردی کرنے سے روکتا ہے تو اپنے حق میں ترامیم کروائیں، لیکن اس کے بارے میں پرسیپشن یعنی تاثر کیا ہے؟ واحد جمہوری دور، آئین کا خالق، غریبوں کا ہمدرد۔
ایک ٹی وی اشتہار آپ سب نے دیکھا ہوگا، چائے کی پتی والا، کسی بھی چائے کا اپنے پن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن لوگوں کو بے وقوف بنا کر انہیں یقین دلا دیا جاتا ہے کہ چائے کا اپنے پن سے اور حبیب کمپنی کے کوکنگ آئل کا دل سے گہرا تعلق ہے۔
عمران خان اپنی بیٹی کو بیٹی ماننے سے انکاری ہیں لیکن وہ بہادر آدمی ہے۔
وہ ایمپائر کو ساتھ ملا کر الیکشن جیتا لیکن تاثر یعنی پرسیپشن یہ ہے کہ وہ دیانت دار ہے۔
حکومت میں انہوں نے آرمی چیف جنرل باجوہ کی غلامی کی، کشمیر کا سودا کیا لیکن ہم کوئی غلام ہیں والا معاملہ دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ غلامی کو ناپسند کرتا ہے۔
اس میدان میں آپ اسے شکست نہیں دے سکتے۔
سیاسی میدان میں اُس کا مقابلہ کریں، سیکٹر کمانڈرز کے پیچھے مت چھپیں۔
سچ یہ ہے کہ عوام کی اکثریت پی پی پی اور نواز لیگ سے نفرت کرتی ہے اور عمران خان سے محبت۔
اب اس سے آگے چلیں۔ اسے آزاد چھوڑیں۔ اس کو موقع دیں۔ اس سے مقابلہ کریں، وہ ختم ہو جائے گا، آپ تو پہلے ہی ختم ہو چکے ہیں۔

