ذورین نظامانی اور تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم، عمر فاروق کا کالم
تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم جتنا منظم ہے اتنا ہی سفاک ہے۔ شدید بے رحم۔
مخالف پارٹی کے لوگ تو کیا ہی اکھاڑ لیں گے، ان کے سامنے ان کا اپنا سلطان راہی جیسا شیر افضل مروت گھٹنے ٹیک چکا ہے۔مروت صاحب نے پہلے سوشل میڈیا والوں کو دھمکیاں دیں، پھر طعنے دیئے، آجکل آخری درجے میں بد دعائیں دیتے ہیں۔
تحریک انصاف کی پارٹی پالیسی عمران خان کا کیا گیا کلام ہے یا سوشل میڈیا ٹیم کا بنایا گیا ٹرینڈ۔
پیریڈ۔
اس کے سوا سب مایہ ہے۔ ان کے سامنے کوئی اسمبلی کا ممبر معنی رکھتا ہے نہ پارٹی عہدیدار۔ سب عبث ہے۔ ناحق ان مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی۔
اب صحافت کی بات کرتے ہیں۔
جبران الیاس کے سامنے جس شعبے نے سب سے پہلے اور آسانی سے گھٹنے ٹیکے وہ شعبہ صحافت ہے۔ اس شعبے کو اس نے سنہ 2013 میں ہی سر کر لیا تھا۔
جیسے ہی کوئی صحافی یا دانشور عمران خان کے بارے ایک مثبت جملہ کہے گا یہ اسے صحافت کا سلطان بنا دیں گے۔ حق کا علمبردار۔ اس کے مرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چل پڑیں گے۔ ہر سو صدائے حیدری ہو جائے گی۔ مالی فائدہ بھی شاید ہوتا ہو گا مجھے نہیں پتہ۔ روحانی البتہ ہوتا ہے۔
یوں کسی بھی صحافی یا دانشور کو بڑی سہولت سے یہ ایک بند گلی میں لے جاتے ہیں۔ اب وہاں سے اس صحافی یا دانشور کا صحافت اور دانش سے ناطہ ختم ہو جاتا ہے۔
اب سامنے کی دیوار ہے جس پہ سر پٹختے رہیں یا پھر پیچھے کھڑے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے دوستوں کی خواہش کے مطابق کانٹینٹ بناتے رہیں۔
پھر ایک وقت آتا اس کانٹینٹ سے ملنے والی شہرت کے عوض مخالف جانب سے ایک خطرہ بھی سامنے آتا ہے۔ یہاں اکثر صحافی شہرت کو خطرے پر فوقیت دیتے ہیں کہ شہرت کی لذت منہ کو لگ چکی ہے۔ اب تو اَنا بھی ساتویں آسمان پر ہے۔
اس صحافی/دانشور کی کامیابی یہ عمارت ایک ستون پر کھڑی ہوتی ہے جس کا نام ہے تحریک انصاف کا سوشل میڈیا۔ اب آپ اس دائرے سے باہر نہیں جا سکتے جو جبران الیاس اینڈ کمپنی نے آپ کے گرد شہادت والی انگلی سے بنا دیا ہوتا ہے۔
سچائی کا اس سارے کھیل میں کوئی اب لینا دینا باقی نہیں رہ جاتا۔
اس سارے مقدمے کو سمجھنے کے لئے ذورین نظامانی ایک دلچسپ کیس اسٹدی ہو سکتے ہیں۔
ان کا آرٹیکل آیا۔
فوت کر دیا گیا۔
پھر زندہ کیا گیا۔
بچوں کو اچھا لگا۔ بچے بھگاتے بھگاتے نظامانی صاحب کو اسی اوپر بیان کی گئی دیوار کے پاس لے گئے۔
فضیلہ قاضی پیچھے سے تماشا دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے بیٹے کو آواز لگا دی کہ رفتار کم کر لو۔
بزرگ آخر بچوں کا اچھا ہی چاہتے ہیں۔ عمران ریاض خان کو بھی تو باجوہ صاحب نے بتایا تھا کہ رفتار کم کریں آگے پُل بن رہا ہے۔
لہذا یہ فلمیں ہم پہلے دیکھ چکے ہیں۔
ذورین اب خود کو ایک دیوتا بنتا دیکھ چکا ہے۔ وہ اب فضیلہ کو سمجھائیں گے کہ ماما کچھ نہیں ہوتا یار۔ کیا میں نے کوئی غلط بات لکھی ہے؟ آپ نے اور بابا نے خود ہمیشہ مجھے سچ بولنے کا سبق سکھایا۔ اب سچ لکھا تو آپ ہی منع کر رہی ہیں۔
دِس از ناٹ فیئر۔
نانا نے لاسٹ بڑی عید پہ کیا کہا تھا کہ ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا۔ چور کو چور کہنا۔ کیا فائدہ میری ڈگریوں کا جو میں حق کے ساتھ کھڑا نہ ہو سکوں۔ دو جملے نہ لکھ سکوں۔
لٹ مِی ہینڈل اِٹ، ماما۔
ماما کو بھی دل ہی دل میں بیٹے کا عمر سے پہلے بڑا ہونا اچھا لگ رہا ہو گا۔
اوکے، دہن۔ ڈوو ووٹ ایوور یو وانٹ۔ یوو آر ناٹ آ کِڈ اینی موور۔ بٹ میں پھر بھی کہوں گی کہ بی کیئر فل، اوکے۔ کل کو پاکستان بھی جانا ہے ہم نے تمہاری شادی کرانی ہے۔
چھوٹے نظامانی صاحب نے ٹوئٹر اکاؤنٹ بنا لیا۔ اب آج کل کہہ رہے ہیں کہ ان کا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ پچھلے ہفتے تک نہیں ہو گا۔ لیکن اگلے ہفتے تک خواہ مخواہ ہو جائے گا۔
نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے پسندیدہ لوگوں میں وجاہت سعید خان شامل ہو جائیں گے۔ پھر عمران ریاض خان۔ ڈاکٹر معید پیرزادہ کی حق گوئی ان کو انسپائر کرے گی۔ پھر مزید حق گوئی واسطے شاید یہ یوٹیوب چینل بنا لیں۔ اور سلسلہ چل نکلے گا انشااللہ۔
ہم نے پچھلے دس بارہ برسوں یہی ہوتے دیکھا ہے۔ کاش چھوٹے نطامانی ہمیں غلط ثابت کریں۔

