جیل جاتے وقت ایپسٹین نے مراکش میں 27 کروڑ ڈالر کا محل خریدا
جیفری ایپسٹین نے بہت ہی کم عمر لڑکیوں کو سیکس کے لیے دنیا بھر میں ایک جگہ سے دوسرے مقام پر بھیجا۔
ایپسٹین کو سنہ 2008 میں سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن اس کی دولت نے اس کے باوجود اُس کو اگلی ایک دہائی تک یہ سب کرنے کا اجازت نامہ فراہم کیا۔
اُس وقت جب وہ جیل کی دیواروں کے پیچھے تھا تب بھی بہت سے مددگاروں پر بھروسہ کر سکتا تھا۔
ایپسٹین کی گرفتاری سے صرف دس دن پہلے بین الاقوامی فنانسنگ فرم چارلس شواب نے مراکش میں اُس کے لیے ایک محل خریدا۔ اس محل کی رقم تقریباً 27 ملین ڈالر تھی جو فرم نے ایپسٹین کی جانب سے فراہم کی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی خبر

