پاکستان کا ’جوابی کارروائی‘ میں افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے انٹیلی جنس بنیاد پر جوابی کارروائی میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادیوں کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سنیچر کو رات گئے وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں رمضان کے مقدس مہینے کے دوران کا ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں خوارج نے افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور ہینڈلرز کے ایما پر کیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، ان کے ساتھی گروہوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ نے بھی قبول کی ہے۔‘
دوسری جانب افغانستان نے کہا کہ پاکستان نے صوبہ ننگرہار اور پکتیکا میں حملے کر کے افغان سرزمین کی خلاف ورزی کی ہے۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےایکس پر پوسٹ میں کہا کہ ان حملوں میں صوبہ ننگرہار اور پکتیکا کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ’خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔‘ ’پاکستانی جرنیل اپنے ملک کی سکیورٹی کمزوریوں کی تلافی ایسے جرائم کے ذریعے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
ننگرہار کے ضلع بہسود میں اے ایف پی کے ایک صحافی نے دیکھا کہ لوگ حملوں کے بعد ملبے تلے دبے متاثرین کی تلاش کے لیے بلڈوزر استعمال کر رہے تھے۔
ایک افغان سکیورٹی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ بہسود میں ایک گھر کو نشانہ بنائے جانے سے ہلاک ہونے والے 17 افراد میں 12 بچے اور کم عمر نوجوان شامل تھے۔

