کالم

زبان اور بیانیے کی جنگ، علی ارقم کا کالم

مارچ 30, 2026

زبان اور بیانیے کی جنگ، علی ارقم کا کالم

جارج آرویل (George Orwell) کی سیاست میں مروجہ زبان پر تنقید آج بھی اتنی ہی برمحل اور ریلیونٹ ہے جتنی 1946 میں تھی۔ جارج آرویل کے خیالات کی تشریح کرتے ہوئے جانی تھامسن (منی فلاسفی) کہتے ہیں کہ سیاست اور معیشت کے میدان میں ہماری زبان بتدریج کھوکھلی، مبہم اور بے معنی ہوتی جا رہی ہے۔ ہم حقیقت کو سیدھے الفاظ میں بیان کرنے کے بجائے ایسے سوچے سمجھے، ملمع کاری والے جملوں، نعروں اور خوشنما اصطلاحات کا سہارا لیتے ہیں جو اصل معنی کو چھپا دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر، جنگ میں عام شہریوں کی ہلاکت کو ”کولیٹرل ڈیمیج” کہا جاتا ہے، جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں کو نوکری سے نکالنے کو ”مؤثر انتظامی تبدیلیاں“ یا ”ڈاؤن سائزنگ“ قرار دیا جاتا ہے۔ یوں زبان نہ صرف حقیقت کو دھندلا دیتی ہے بلکہ ہماری سوچ کو بھی مبہم اور کمزور بنا دیتی ہے۔

آرویل کی یہ فکر آج کے عالمی سیاسی منظرنامے پر بالکل فٹ بیٹھتی ہے۔ جنگ اور طاقت کے استعمال کو براہ راست نام دینے کے بجائے اسے نرم اور تکنیکی اصطلاحات میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ جنگ “آپریشن” بن جاتی ہے، حملہ “پری ایمپٹیو اقدام”، اور فضائی بمباری ”پریسیژن اسٹرائکس” یا ”پریسائز ٹارگٹنگ” کہلاتی ہے۔ اس طرح تباہی کی شدت کم محسوس ہوتی ہے اور ذمہ داری کا تعین بھی دھندلا جاتا ہے۔ یہی “اخلاقی بے حسی” ہے جس کی نشاندہی آرویل نے کی تھی۔

اس سے آگے بڑھتے ہوئے، یہی زبان انسانی المیوں کو بے حس اصطلاحات میں تبدیل کر دیتی ہے۔ فلسطین کے تناظر میں قتل و غارت اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کو ”شہری ہلاکتیں” کہا جاتا ہے، آبادیوں کے مٹائے جانے اور جبری نقل مکانی کو ”انخلا”، جبکہ محاصرے اور اپارتھائیڈ جیسی پالیسیوں کو ”سیکیورٹی پابندیاں” کا نام دیا جاتا ہے۔ الفاظ حقیقت کی عکاسی کے بجائے اس کی نئی تعبیر تراش رہے ہوتے ہیں۔

بیانیے کی ایک اور پرت یہ ہے کہ ایک ہی عمل کسی کے لیے ”حقِ دفاع” اور دوسرے کے لیے ”دہشت گردی” بن جاتا ہے۔ زبان مکالمے کے دروازے کھولنے کے بجائے پہلے سے طے شدہ فیصلے مسلط کرنے کا ہتھیار بن جاتی ہے۔

عالمی اور ملکی میڈیا کا پورا ڈھانچہ اسی ”فلیٹ” زبان پر قائم دکھائی دیتا ہے۔ پیچیدہ انسانی کہانیاں سادہ ساؤنڈ بائٹس، نعروں اور تیار شدہ ”میسجنگ” میں سمٹ جاتی ہیں۔ نتیجتاً عوام سوچنے کے بجائے فوری ردعمل دینے کی عادت اختیار کر لیتے ہیں۔

اسی طرح پالیسی فیصلوں کو ”ناگزیر قربانیاں”، بے رحم اقدامات کو ”اسٹریٹجک مفادات” اور ظالمانہ پالیسیوں کو ”طویل مدتی استحکام” جیسے مبہم الفاظ میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ اصل سوال — کہ قربانی کون دے رہا ہے اور کس کے لیے — پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا، بالخصوص قبائلی اضلاع کے حوالے سے رائج بیانیہ اس کی واضح مثال ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں اور لوگوں پر ہی انتہاپسندی کی حمایت کا الزام لگا کر حقیقت کو جھٹلایا جاتا ہے۔ پہلے متاثرین کو ہی ذمہ دار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔

نتیجتاً ایک ایسا مبہم بیانیہ تشکیل پاتا ہے جو بوقتِ ضرورت تاویل، پیچھے ہٹنے اور مکرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ آرویل کہتے ہیں کہ جب زبان مسلسل مبہم، مشینی اور کلیشوں سے بھر جائے تو انسان کی سوچ بھی محدود اور دھندلی ہو جاتی ہے۔ وہ حقیقت کو خود سمجھنے کے بجائے دیے گئے الفاظ کے ذریعے ہی دیکھنے لگتا ہے۔

اس صورتحال میں آرویل کا حل نہایت سادہ مگر گہرا ہے:
ہر مبہم اور خوشنما جملے کو توڑ کر دیکھنا۔
یہ پوچھنا کہ اس کے پیچھے اصل محرک کیا ہے؟
اس سے سب سے زیادہ کون متاثر ہو رہا ہے؟
اور اگر اسے لفاظی کے بغیر سیدھے الفاظ میں بیان کیا جائے تو وہ کیسا لگے گا؟

آج کی سیاست میں جنگیں صرف اسلحے سے نہیں، بلکہ زبان اور بیانیے میں بھی لڑی جا رہی ہیں۔ جب الفاظ سچ سے کٹ جائیں تو سچ تک رسائی بھی مشکل ہوتی چلی جاتی ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم ”کیوریٹڈ بیانیے” اور ”ریہرسل شدہ بیانات” کو بغیر سوال کے قبول نہ کریں۔ زبان کو واضح، سیدھا اور ایماندار رکھنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں، یہ طاقت کا ہتھیار بھی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے