پاکستان

لاہور میں نشہ آور اشیا کھلانے والا گروہ سرگرم، ٹیکسی و رکشہ ڈرائیور نشانہ بننے لگے

اپریل 1, 2026

لاہور میں نشہ آور اشیا کھلانے والا گروہ سرگرم، ٹیکسی و رکشہ ڈرائیور نشانہ بننے لگے

لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کا مالی مبینہ طور پر اُس وقت لاپتہ ہوا جب وہ پارٹ ٹائم رکشہ چلاتے ہوئے سواری سے نشہ آور چیز لے کر کھا بیٹھا-

مقامی پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ شہر میں ایسے افراد سرگرم ہیں‌ جو رکشہ و ٹیکسی ڈرائیورز کو نشہ آور اشیا کھلا کر لوٹ مار کرتے ہیں-

لاہور کے علاقے صدر کے ایس پی رانا طاہر حسین سے منسوب ایک بیان میں پولیس نے کہا ہے کہ ایسی ہی ایک واردات میں ملوث ملزمہ کو چند دن قبل حراست میں‌ لیا گیا-

جوہر ٹاؤن پولیس کے بیان کے مطابق نوسرباز خاتون نے نیا طریقہ واردات اختیار کیا تھا اور وہ رائیڈ بک کر کے ڈرائیورز کے ساتھ بیٹھ جاتی تھی-

پولیس کے مطابق ملزمہ ڈرائیور کو باتوں میں لگا کر نشہ آور چیز پلا کر بے ہوش کرتی، اور بعد ازاں ڈرائیورز کے موبائل، والٹ اور دیگر قیمتی اشیاء لے کر فرار ہو جاتی-

جوہر ٹاؤن میں آخری واردات کے دوران شہری کو نشہ دے کر لوٹا گیا جس کے بعد ملزمہ کے خلاف تھانہ جوہر ٹاؤن میں مقدمہ نمبر 551/26 درج کیا گیا-

پولیس کا دعویٰ ہے کہ جدید ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلیجنس کے ذریعے ملزمہ تک رسائی حاصل کی گئی اور پیشہ وارانہ تفتیش کے دوران ملزمہ کا طریقہ واردات بے نقاب ہوا-

پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کے دیگر تھانوں کی حدود میں بھی وارداتوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے-

ایس پی صدر رانا حسین طاہر کا کہنا ہے کہ ملزمہ لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ میں بھی اسی طرز کی واردات کر چکی تھی، ریکارڈ چیک کے دوران مختلف علاقوں میں وارداتوں کا سراغ لگا لیا گیا- مزنگ، ڈیفنس اے اور گجرانوالہ میں بھی ملزمہ کی کارروائیاں سامنے آئیں.

دوسری جانب لاپتہ مالی اور پارٹ ٹائم رکشہ ڈرائیور محمد لطیف کے اہلخانہ نے بتایا کہ گزشتہ روز اُن کو کسی سواری نے نشہ آور چیز کھلائی جسسے وہ بے ہوش ہو گئے-

راہگیر نے محمد لطیف کو بے ہوشی کی حالت میں دیکھ کر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی اور اُن کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا-

اہل خانہ کے مطابق ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد انتظامیہ نے محمد لطیف کو ڈسچارج کیا جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے اور اُن کا محمد لطیف سے رابطہ نہیں ہو سکا-

اہل خانہ کے مطابق رکشہ راجہ مارکیٹ پولیس چوکی میں ہے جبکہ ہسپتال والوں کے مطابق مریض کو رات کو 10 بجے کے بعد ڈسچارج کیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق بعض اوقات نشہ آور چیز کے اثرات 36 گھنٹوں تک رہتے ہیں اور مالی و ڈرائیور محمد لطیف ہسپتال سے نکلنے کے بعد نشے کے اثرات میں تھے جس کی وجہ سے راستہ بھول گئے-

اہلخانہ نے بعد ازاں محمد لطیف کو تلاش کر لیا تاہم وہ تاحال ذہنی طور پر اس قابل نہیں‌ کہ واقعات کو یاد کر کے تفصیل بتا سکیں-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے