کالم

شہباز بھٹی، ایک سیلف میڈ شخص اور صحافی کی کہانی ختم ہوئی

اپریل 2, 2026

شہباز بھٹی، ایک سیلف میڈ شخص اور صحافی کی کہانی ختم ہوئی

زبیر قریشی، صحافی – اسلام آباد

شہباز بھٹی صاحب، نوائے وقت کے انگریزی روزنامے دی نیشن کے نیوز ایڈیٹر کا گزشتہ شب جگر کے عارضے کے باعث انتقال ہو گیا، ان کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا-
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ڈاکٹر شیریں مزاری کو مختصر مدت کے لیے اخبار کا ایڈیٹر لگایا گیا، وہ ایک طوفانی دور تھا۔

افسر خان صاحب، نویدخان، سلمان، ارشد صاحب، رانا عارف، عارف خان, راؤ اطہر اور میں ڈیسک پر بطور سب ایڈیٹرز کام کر رہے تھے اور بھٹی صاحب ہمارے ٹیم لیڈر تھے- شیریں مزاری صاحبہ پریشر میں کام کرنے کی عادی نہ تھیں اور بہت جلد غصے میں آ جاتی تھیں- بھٹی صاحب اکثر اُن کے swinging moods کا ہدف ہوتے-
ڈاکٹر مزاری جتنی ہائپر تھیں، بھٹی صاحب اتنے ہی دھیمے مزاج کے مالک تھے- ڈاکٹر مزاری غصے میں بولتی رہتیں اور وہ خاموشی سے سنتے رہتے لیکن اخبار کی پالیسی سے ذرا بھی پیچھے نہ ہٹتے-

رات بارہ بجے میڈم صاحبہ یہ کہتے ہوئے اچھا بھٹی صاحب ! میں جارہی ہوں آپ دیکھ لینا، کہہ کر روانہ ہو جاتیں تو پیچھے اخبار کا پورا لے آؤٹ ازسر نو بنتا. ہم سب کو دوبارہ سٹوریز ایڈیٹنگ کے لیے دی جاتیں، گویا نئے سرے سے کام شروع ہوتا۔
میڈم نے جیسی تیسی ہیڈ لائنز لگا کر اور خبروں میں نیلا پیلا شیڈ ڈال کر اخبار کا جو بیڑہ غرق کیا ہوتا اس سب کو ختم کیا جاتا- بھٹی صاحب بس یہ کہتے دعا کریں یہ مصیبت جلد ٹل جائے، ہم سب قہقہے لگاتے، چائے آتی اور ہم دوبارہ کام میں جت جاتے، گویا کچھ ہوا ہی نہیں- یہ سلسلہ دوسال جاری رہا تاوقتیکہ میڈم کو مجید نظامی صاحب نے ایڈیٹری سے فارغ کر دیا-

لیکن اس سارے عرصے کے دوران بھٹی صاحب کا صبر اور دھیما مزاج ہم سب کے لیے باعث تقویت رہا. میڈم کی out bursts کو خود پر جھیل کر سٹاف کا دفاع کرنا یہ بھٹی صاحب کا خاصہ تھا، اس چیز کا میڈم کو بھی ادراک تھا تبھی رخصت ہوتے ہوئے انہوں نے بھٹی صاحب کو ایک میسج بھیجا تھا جو مرحوم نے مجھے دکھایا بھی تھا. اس میں میڈم نے نہ صرف ان سے اپنے پچھلے رویے کی معذرت کی تھی بلکہ اس بات کا بھی برملا اظہار کیا تھا کہ اگر بھٹی صاحب نہ ہوتے تو وہ شاید ایک دن بھی کام نہ کر پاتیں-

شہباز بھٹی صاحب سکون اور صبر کی مثال تھے، اخبار ڈاؤن کرنے کے بعد ساری رات دی نیشن نوائے وقت دفتر واقع زیرو پواںنٹ میں ٹھہرے رہتے اور دن کی روشنی میں ہی اپنے گھر واقع مارگلہ ٹاؤن جاتے، ان کا تکیہ کلام تھا "مزے کریں-”

ایک مرتبہ مجھے اپنے ٹھنڈے مزاج ہونے کا واقعہ سنایا- بتایا کہ میں صبح دفتر سے گھر واپس لوٹا اور حسب معمول سو گیا، تھوڑی دیر گزری ہوگی ٹھاہ کی آواز سنائی دی۔۔۔ میری اہلیہ بھاگتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں، مجھے جگایا اور کہا کہ وہ گاڑی نکال رہی تھی کہ اس پر کنٹرول نہ رکھ سکی اور گاڑی کو گھر کے سامنے موجود گڑھے میں دے مارا، اب گاڑی وہاں پھنسی ہوئی ہے، "میں اٹھا جاکر گاڑی کا جائزہ لیا، دروازے وغیرہ لاک کیے، نقصان کا تخمینہ لگایا اور واپس کمرے میں آ کر سوگیا، اب کیا ہو سکتا تھا، شام میں اٹھ کر دیکھیں گے کیا کرنا ہے-”
ایک وقت تو ایسا بھی آیا پورے دی نیشن میں سٹاف کے تنخواہیں نہ ملنے کے باعث کام چھوڑ جانے پر بھٹی صاحب نے تن تنہا اخبار نکالا اور خود کو منوایا-

دی نیشن کے اس اثاثے کی مجید نظامی کی صاحبزادی نے قدر نہ کی- آخری دنوں میں مرحوم "لیورمال فنکشننگ” (جگر کی خرابی) کا شکار ہوئے اور دیکھتے دیکھتے ہاتھ سے نکل گئے، یوں ایک سیلف میڈ شخص کی کہانی ختم ہوئی-

مارگلہ ٹاؤن میں اپنا گھر تھا اور دونوں بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی یونیورسٹی کے تعلیمی مراحل سے گزر کر پروفیشنل لائف کی دہلیز پر ہیں-

اپنی چھوٹی سی دنیا میں مگن یہ شخص ایک سوال پیچھے چھوڑ گیا- کیا ہمارے ادارے ایسے مخلص ورکر کا آخری دنوں میں خیال بھی نہیں رکھ سکتے؟ اب ان کی رکی ہوئی تنخواہیں اور واجبات کی ادائیگی کب اور کیسے ہوگی؟ رمیزہ صاحبہ سے ذاتی توچہ کی اپیل ہے-

بھٹی صاحب کے حوالے سے دی نیشن سے وابستہ رہنے والے رپورٹراسرار احمد راجپوت نے بھی ایک واقعہ لکھا ہے-

اُن کے مطابق ”میں نے اپنی لائف میں ان جیسا سیلف میڈ نیوز ایڈیٹر نہیں دیکھا- ان کا موٹرسائیکل سستا بازار سے چوری ہوا، اور پھر واپس مل گیا-

مجھے شہباز بھٹی صاحب نے کہا کہ پولیس ریکارڈ میں ابھی تک چوری شدہ دکھائی دے رہا ہے، وہ درست کرا دیں-“

میں نے ایک ایس ایس پی سے ریکویسٹ کی کہ ”ہمارے نیوز ایڈیٹر کا بائیک مل گیا وہ پولیس ریکارڈ میں چوری شو ہو رہا-“

ایس ایس پی حیران پریشان کہ نیوز ایڈیٹر اور بائیک ۔۔۔۔ ۔ یہ کیسا سیلف میڈ انسان ہے- میں نے کہا ”وہ ایسے ہی ہیں-“

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے