سائنس اور ٹیکنالوجی

زمین سے ریکارڈ دوری: جب چار انسانوں نے کائنات کی وسعتوں میں تاریخ رقم کر دی

اپریل 7, 2026

زمین سے ریکارڈ دوری: جب چار انسانوں نے کائنات کی وسعتوں میں تاریخ رقم کر دی

خلا کی لامتناہی وسعتوں میں سفر کرتے ناسا کے ’آرٹیمس II‘ مشن نے وہ کر دکھایا ہے جو انسانی تاریخ میں اس سے قبل کبھی نہیں ہوا: زمین سے اتنی دوری کہ جہاں سے واپسی کا راستہ صرف ہمت اور جدید ٹیکنالوجی کے مرہونِ منت ہے۔

پیر کی دوپہر جب گھڑیال نے ایک بج کر 57 منٹ بجائے، تو اورین کیپسول میں سوار چار خلابازوں نے زمین سے 4 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کر لیا۔ یہ محض ایک ہندسہ نہیں بلکہ 56 سال پرانے اس ریکارڈ کا خاتمہ تھا جو سنہ 1970 میں ’اپالو 13‘ کے عملے نے ایک حادثے کے بعد جان بچانے کی تگ و دو میں قائم کیا تھا۔

ناسا کے ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن اس وقت اس مقام پر موجود ہیں جہاں سے زمین ایک چھوٹے سے نیلے گلوک کی مانند دکھائی دیتی ہے۔

مشن کنٹرول سے جب کینیڈین خلاباز جینی گبنز کی آواز گونجی کہ ’آج آپ پوری انسانیت کے لیے سرحدوں کو وسعت دے رہے ہیں‘، تو خلا کی خاموشی میں ایک نیا جوش بھر گیا۔

مشن کے کمانڈر ریڈ وائزمین نے اس موقع پر اپنے پیشروؤں کو یاد کرتے ہوئے کہا ’ہم یہ سفر اس لیے کر رہے ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو چیلنج کر سکیں کہ وہ اس ریکارڈ کو بھی زیادہ دیر تک قائم نہ رہنے دیں۔‘

اپالو 13 بمقابلہ آرٹیمس: حادثہ یا منصوبہ؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل یہ ریکارڈ اپالو 13 کے پاس تھا، مگر وہ کسی جشن کی غرض سے نہیں بنا تھا۔ اس مشن کے دوران آکسیجن ٹینک پھٹنے کے باعث خلابازوں کو زمین پر واپس لانے کے لیے چاند کی کششِ ثقل کا سہارا لینا پڑا، جس نے انہیں نادانستہ طور پر زمین سے دور ترین مقام پر پہنچا دیا تھا۔

اس کے برعکس آرٹیمس II کا مشن مکمل طور پر منصوبہ بندی کے تحت اس حد کو پار کر رہا ہے۔ یہ مشن چاند کی سطح سے محض 6500 کلومیٹر اوپر سے گزرے گا، جہاں سے چاند اتنا بڑا نظر آئے گا گویا آپ کے ہاتھ میں تھامی ہوئی ایک باسکٹ بال ہو۔

اگلی منزل کیا ہے؟

آرٹیمس II کا یہ سفر صرف ایک ریکارڈ تک محدود نہیں ہے۔ یہ انسان کے دوبارہ چاند پر قدم رکھنے اور مستقبل میں مریخ تک پہنچنے کے خواب کی پہلی باقاعدہ کڑی ہے۔

ماہرین کے مطابق آج رات یہ عملہ زمین سے 406,773 کلومیٹر کے دور ترین مقام پر پہنچ جائے گا، جس کے بعد زمین کی کشش انہیں دوبارہ اپنے بازوؤں میں سمیٹنے کے لیے کھینچنا شروع کر دے گی۔ یہ مشن ثابت کر رہا ہے کہ انسان اب صرف زمین کا قیدی نہیں، بلکہ ستاروں کا مسافر بننے کے لیے تیار ہے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے