القادر ٹرسٹ کیس میں سزا، ’سات دنوں میں مرکزی اپیلوں کا فیصلہ کر دیں گے‘
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا ہے کہ اُن کا عدالتی بینچ اگلے ہفتے عمران خان اور بشری بی بی کی القادر ٹرسٹ کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کا فیصلہ کر دے گا-
منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان اور بشری بی بی کی القادر ٹرسٹ کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے بینچ نے درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کو جیل میں اُن کے مؤکل سے ملاقات کرانے کا حکم بھی جاری کیا-
عدالت نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم اور اُن کی اہلیہ کی سزاؤں کے خلاف مرکزی اپیلیں جمعرات کو سماعت کے لیے مقرر کر دیں۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات میں ہی ان کی ہدایت لی جائیں گی کہ دلائل مرکزی اپیلوں پر دیے جائیں یا سزا معطلی کی درخواستوں پر۔
عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کی سزاؤں کے خلاف مرکزی اپیلیں سماعت کے لیے جمعرات کو مقرر کر دی ہیں جس کے لیے اُن کی جماعت کے رہنما اور اُن کی بہنیں طویل عرصے سے ہائیکورٹ میں پیش ہو کر کوششیں کر رہی تھیں۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ وہ فوری طرح پر سزاؤں کی معطلی پر دلائل دینا چاہیں گے۔ ایک خاتون کو دی گئی سزا کے معاملے میں سزا کی معطلی کے لیے دائر درخواست پر دلائل دینے کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ سات دن میں ہم مرکزی اپیلوں کا فیصلہ کر دیں گے۔

