مذہبی شخصیت پوپ سے مقابلہ، صدر ٹرمپ نے خود کو حضرت عیسیٰ ظاہر کرنے والی تصویر ڈیلیٹ کر دی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید تنقید کے بعد اپنی ایک متنازع تصویر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل سے ہٹا دیا ہے۔
تنقید کرنے والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس تصویر میں صدر ٹرمپ نے خود کو حضرت عیسیٰ جیسی شخصیت کے روپ میں دکھایا تھا-
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُن کے خیال میں تصویر میں وہ ڈاکٹر کے طور پر دِکھائی دے رہے تھے-
مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی اس تصویر میں صدر ٹرمپ ہسپتال کے بستر پر لیٹے ایک بیمار شخص کو روحانی طاقت سے صحت یاب کر رہے ہیں۔ اس پوسٹ پر صدر ٹرمپ کو مسیحی مذہبی حلقوں کے علاوہ اپنے حامیوں کی بھی تنقید کا سامنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ متنازع تصویر انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی تاہم وضاحت کی کہ اُن کے خیال میں یہ تصویر انھیں ایک ڈاکٹر کے طور پر دکھا رہی تھی۔
اس تصویر میں صدر ٹرمپ سفید لباس میں ملبوس دکھائی دیتے ہیں اور ایک بیمار شخص کے ماتھے پر ان کا ہاتھ روشن دکھائی دیتا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ منظر اُن مذہبی پینٹنگز سے مشابہ ہے جن میں حضرت عیسیٰ کو بیماروں کو شفا دیتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔
پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی اس تصویر کا ذکر کیا گیا-
فیس بُک پر اس حوالے سے ایک لطیفہ نما واقعہ شیئر کرتے ہوئے ایڈووکیٹ ثنا اللہ گوندل نے لکھا کہ:
”ہمارے ماموں مرحوم کے ایک کزن مرحوم تھے جو جب دوائی نہیں لیتے تھے تو خود کو قطب کہتے تھے۔ ایک دن دونوں کا کسی بات پر اختلاف ہوگیا۔ قطب نے ڈانٹا کہ چپ کرو میں تے قطب آں۔ (یعنی خاموش ہو جاؤ، میں تو قطب ہوں)
مامے اپنی شریر مسکراہٹ نال آکھیا۔ میں غوث آں۔ (ماموں نے ایک شرارت بھری مسکراہٹ سے جواب دیا، میں تو غوث ہوں)
قطب صاحب فرمایا کہ توں تے آپے بنیا ہویا ایں۔ (قطب صاحب نے فرمایا کہ تم تو خود بنے ہو)
مامے آکھیا تیرے کول کیہڑی سند اے؟ (جواب میں ماموں نے کہا کہ تمہاری پاس کون سی سند ہے)-
ثنا اللہ گوندل کے مطابق یہ واقعہ اُن کو مسیحی رہنما پوپ اور ٹرمپ کے اختلاف سے یاد آیا- یعنی پوپ نے کہا کہ چپ کر، میں پوپ ہوں- تو صدر ٹرمپ نے اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت سے تصویر پوسٹ کر دی کہ میں یسوع ہوں-“

