عالمی خبریں

ٹورنٹو کی بس میں حجاب والی خاتون پر مبینہ اسلاموفوبک حملہ، پولیس کی تحقیقات جاری

اپریل 18, 2026

ٹورنٹو کی بس میں حجاب والی خاتون پر مبینہ اسلاموفوبک حملہ، پولیس کی تحقیقات جاری

نورالامین دانش ، کینیڈا

کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے علاقے اسکاربرو کی پبلک ٹرانسپورٹ میں پیش آنے والے واقعے نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں حجاب کیے مسلمان خاتون پر مبینہ طور پر نفرت انگیز حملہ کیا گیا۔
پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ممکنہ طور پر نفرت پر مبنی جرم قرار دے کر تحقیقات شروع کی ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ Durham Region Transit کی ایک بس میں پیش آیا، جو اسکاربرو کے علاقے میں سفر کر رہی تھی۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس میں ایک شخص کو خاتون پر چیختے، نازیبا زبان استعمال کرتے اور اسے “دہشت گرد” کہہ کر مخاطب کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں مزید دیکھا گیا کہ ملزم اچانک اپنی نشست سے اٹھ کر خاتون کی طرف بڑھتا ہے اور اسے لات مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا خاتون کو جسمانی چوٹ آئی یا نہیں۔ بس میں موجود دیگر مسافروں نے صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔

عینی شاہدین کے مطابق حجاب والی خاتون کے ساتھ بیٹھی دوسری مسافر نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور کو سخت الفاظ میں روکنے کی کوشش کی۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر وہ دوسروں کا احترام نہیں کر سکتا تو اسے بس سے اتر جانا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر اس ردعمل کو خوب سراہا جا رہا ہے۔

ٹورنٹو پولیس سروس بتایا کہ واقعے کو ان کی ہیٹ کرائم یونٹ کے سپرد کر دیا گیا ہے اور اسے نفرت پر مبنی حملہ تصور کرتے ہوئے تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون اور ملزم ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے، جبکہ ملزم واقعے کے بعد بس سے فرار ہو گیا۔
کینیڈین مسلمانوں کی نیشنل کونسل نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور اسے کینیڈا میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کی ایک خطرناک مثال قرار دیا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف متاثرہ فرد بلکہ پوری کمیونٹی کے احساسِ تحفظ کو متاثر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں کینیڈا سمیت مغربی ممالک میں مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی ٹرانزٹ کو محفوظ بنانے کے لیے مزید اقدامات زیر غور ہیں۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس واقعے سے متعلق مزید معلومات یا ویڈیو موجود ہو تو وہ فوری طور پر سامنے آئے تاکہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے