لڑکی سے فون چھیننے کی وائرل ویڈیو، لاہور پولیس کا ملزم سے مقابلے کا دعویٰ
پنجاب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور کے تھانہ نواب ٹاؤن کی حدود او پی ایف سوسائٹی میں نوجوان لڑکی سے موبائل فون چھیننے والا ملزم پولیس مقابلے میں شدید زخمی ہوا ہے۔
تھانہ نواب ٹاؤن میں درج مقدمے کے مطابق شہری محمد ثاقب حنیف نے بتایا تھا کہ جمعرات کی شام ساڑھے پانچ بجے اُن کی 17/18 برس کی بیٹی اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) سوسائٹی میں گھر کے قریب سکوٹی چلا رہی تھی جب اُس سے لوٹ مار کی گئی۔
مدعی کے مطابق موٹر سائیکل سوار ملزم نے اُن کی بیٹی سے انفنکس موبائل فون چھینا اور فرار ہو گیا۔
ایف آئی آر میں موبائل کا برانڈ اور ماڈل انفنکس نوٹ 40 بتایا گیا جبکہ اس کی مالیت 40 ہزار لکھوائی گئی ہے۔
گزشتہ رات پنجاب پولیس کی جانب سے اس واردات کی اپڈیٹ ایک بیان میں جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ:
نواب ٹاؤن او پی ایف میں لڑکی سے موبائل چھیننے کے کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہدایت کی تھی۔ جس کے بعد چوہنگ کے علاقہ سے واردات کرنے والا ملزم عدنان زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
پولیس ترجمان کے بیان کے مطابق پولیس نے جیو فینزنگ سے ملزم کی مومنٹ ٹریس، ناکہ بندی کی۔ مرکزی ملزم ہنڈا 125 پر اپنے ساتھی کے ہمراہ سفر کر رہا تھا۔
پولیس کے ترجمان کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمان کو ناکہ پر رکنے کا اشارہ کیا، فرار ہونے کی کوشش پر پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق ملزم عدنان اپنے ہی ساتھی کی گولی لگنے سے زخمی ہو کر گر پڑا، جبکہ ملزم کا ساتھی فرار ہو گیا جس کا تعاقب جاری ہے اور جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق زخمی ملزم عدنان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا، ملزمان کے خلاف تھانہ چوہنگ میں مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ملزم تک رسائی کےلیے سینکڑوں سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کی جانچ کی گئی، جیو فینسنگ اور ہیومن انٹیلیجنس نے کیس ٹریس کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم پولیس تحویل میں ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
پولیس نے بیان کے ساتھ میڈیا کو تصویر بھی جاری کی ہے جو رات کے وقت لی گئی۔ تصویر میں بظاہر ایک سولہ، سترہ برس کا نوجوان زمین پر گرا دکھائی دیتا ہے جو بے سدھ پڑا ہے۔ اس کے قریب ایک سیاہ رنگ کا پستول پڑا ہوا ہے۔
نوجوان نے سفید ٹی شرٹ اور سیاہ جینز زیب تن کر رکھی ہے جس کی زِپ کھلی ہوئی ہے۔ اور ٹانگوں کے اوپر والے حصے میں جینز پر کچھ دھبے نظر آ رہے ہیں۔
تصویر بظاہر گاڑی کی لائٹ آن کر کے لی گئی ہے اور اس میں ایک طرف پولیس اہلکار کے جوتے نظر آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں محکمہ کرائم کنٹرول (سی سی ڈی) اور پولیس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مبینہ جعلی مقابلے کرانے کے سنگین الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

دو ہفتے قبل لاہور ہائیکورٹ نے صرف گوجرانوالہ ڈویژن میں 188 مبینہ منشیات فروشوں کی گرفتاری کے وقت ٹانگوں میں گولیاں لگنے کے واقعات پر ریجنل پولیس افسر کی کارکردگی پر سوال اٹھائے تھے۔

