پاکستان

لاہور کے تھانوں میں شہریوں‌ کی غیرقانونی حراست اور تشدد کے واقعات میں اضافہ، انکوائری کی شفافیت پر سوال

اپریل 19, 2026

لاہور کے تھانوں میں شہریوں‌ کی غیرقانونی حراست اور تشدد کے واقعات میں اضافہ، انکوائری کی شفافیت پر سوال

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہریوں کو غیرقانونی طور پر حراست میں‌ رکھنے اور تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے- انسانی حقوق اور شہری تنظیموں کی جانب سے پنجاب پولیس میں ایسے عناصر کی بڑھتی تعداد اور محکمے کے اندر احتساب کے نظام کی عدم فعالیت پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے-

لاہور میں اختتام ہفتہ شہریوں‌ کی تھانوں‌ میں‌ غیرقانونی حراست اور تشدد کے دو الگ الگ واقعات نے صوبے میں پولیس کو دیے گئے اختیارات کی وجہ سے ماورائے عدالت اقدامات کو سامنے لایا ہے-

لاہور کے تھانہ ڈیفنس بی کی حدود سے غیرقانونی طور پر حراست میں لے کر تھانہ ڈیفنس اے میں منتقل کیے گئے غریب خاندان کے بہن بھائیوں پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین پنجاب میں‌ مریم نواز دورِ حکومت میں صوبے میں پولیس کے ماورائے آئین و قانون کارروائیوں کی تفصیلات شیئر کر کے تبصرے کر رہے ہیں-

دلچسپ بات یہ ہے کہ تھانے میں‌ تشدد کے اس واقعے کی ایف آئی آر بھی پولیس اہلکار کی مدعیت میں سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کو ہی بنیاد بنا کر درج کی گئی ہے-

مدعی پولیس اہلکار سب انسپکٹر شیراز احمد کی درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق اس نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں‌ دیکھا کہ تھانہ ڈیفنس اے میں کانسٹیبل ساجد علی اور لیڈی کانسٹیبل حفصہ شفیق نے ایک نوجوان کے بازوؤں میں‌ ڈنڈا پھنسا ہوا ہے اور اس کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ اسی کمرے میں‌ ایک لڑکی بھی موجود ہے-

واضح رہے کہ اس ویڈیو کے وائرل ہونے پر تشدد کا نشانہ بننے والے نوجوان کی والدہ نے پولیس کے اعلیٰ حکام کو درخواست دی تھی کہ اس کی بیٹی کو چوری کے الزام میں تھانے لے جایا گیا اور جب اس کا شوہر اور بیٹا تھانے گئے تو ان کو بھی وہاں روک دیا گیا اور اُن کے بیٹے پر تشدد کیا گیا-

پولیس کے اعلیٰ‌ حکام نے تھانہ ڈیفنس اے کے تمام عملے کو معطل کر کے انکوائری کمیٹی بنائی ہے تاہم شہری تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر صرف دو کانسٹیبلز کے خلاف نہایت کمزور دفعات کے تحت درج کر کے اس شبے کو تقویت دی جا رہی ہے کہ محکمہ اپنے اندر احتساب کے عمل کو شفاف بنانے میں‌ سنجیدہ نہیں-

دوسرے واقعے میں تھانہ غالب مارکیٹ میں عمیر ریئس نامی شہری پر مبینہ تشدد کے واقعے کا ڈی آئی جی انویسٹیگیشن لاہور کی جانب سے نوٹس لیے جانے کا بیان لاہور پولیس نے میڈیا کو جاری کیا ہے-

بیان کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹیگیشن نے میڈیا رپورٹ پر فوری نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا اور ایس پی انویسٹیگیشن ماڈل ٹاؤن شاہد نواز وڑائچ کو 7روز میں انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی-

بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ شفافیت اور میرٹ کو برقرار رکھنے کیلئے انچارج انویسٹی گیشن غالب مارکیٹ سونیا ناہید کو کلوز ٹو ہیڈکوارٹر کر دیا گیا جبکہ اے ایس آئی ارشد، ہیڈ کانسٹیبل ریحان اور کانسٹیبل شہباز کو معطل کر کے کلوز ٹو ہیڈکوارٹر کر دیا گیا-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے