متفرق خبریں

سوشل میڈیا پر وائرل اسرائیلی فوجی کی تصویر پر نیتن یاہو بھی ’حیران اور دکھی‘

اپریل 21, 2026

سوشل میڈیا پر وائرل اسرائیلی فوجی کی تصویر پر نیتن یاہو بھی ’حیران اور دکھی‘

سوشل میڈیا پر وائرل اور عالمی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اسرائیلی فوجی کی ایک تصویر نے اسرائیل کے وزیرِاعظم نیتن یاہو کو ’حیران اور دکھی‘ کر دیا ہے-

تصویر میں اسرائیل کا فوجی پڑوسی ملک لبنان کے جنوبی علاقے میں حضرت عیسیٰ کے ایک مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے-

لبنان عرب خطے میں سب سے زیادہ مسیحی آبادی والا ملک ہے- اس تصویر کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر میں شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

اسرائلی وزیرِ خارجہ گدعون ساعر نے عالمی دباؤ کے بعد کہا کہ ’ہم اس واقعے پر معذرت خواہ ہیں اور ہر اس مسیحی سے بھی معذرت کرتے ہیں جن کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔‘

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ ایک صلیب پر نصب تھا جو دیبل گاؤں کے ایک گھر کے باہر واقع تھا۔ دیبل ان چند دیہات میں شامل ہے جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کے دوران بھی کچھ شہری موجود رہے ہیں۔

دیبل کے کلیسا کے سربراہ فادر فادی فلیفل نے برطانونی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم صلیب، جو ہمارا مقدس نشان ہے اور تمام مذہبی علامات کی بے حرمتی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘

مسیحی مذہبی رہنما کا کہنا تھا کہ ’یہ انسانی حقوق کے اعلامیے کے خلاف ہے اور یہ مہذب رویے کی عکاسی نہیں کرتا۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر حقیقی ہے، اور کہا کہ وہ اس واقعے کو ’انتہائی سنجیدگی سے‘ دیکھ رہے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ فوجی کا رویہ ان اقدار کے بالکل برعکس ہے جن کی اس کے اہلکاروں سے توقع کی جاتی ہے۔

مجسمے پر حملے کی خبر کے بعد اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی نے ایکس پر لکھا کہ ’فوری، سخت اور عوامی نتائج ضروری ہیں۔‘

امریکہ کے دائیں بازو کے مبصرین نے بھی اسرائیلی فوجی اور حضرت عیسیٰ کے مجسمے کی تصویر کی فوری مذمت کی۔

سابق رکن کانگریس اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر میٹ گیٹز نے تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے ’خوفناک‘ قرار دیا۔ سابق امریکی رکن کانگریس مارجری ٹیلر گرین نے بھی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہمارا ’سب سے بڑا اتحادی‘ جو ہر سال ہمارے اربوں ڈالر کے ٹیکس اور ہتھیار لیتا ہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے