پاکستان کو سعودی عرب سے تین ارب ڈالر موصول، امارات کا قرض واپس
پاکستان کے مرکزی بینک (سٹیٹ بینک آف پاکستان) نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے مزید ایک ارب امریکی ڈالر کی رقم موصول ہوئی ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق یہ رقم 20 اپریل 2026 کو موصول ہوئی ہے اور تین ارب ڈالر کے اُس حالیہ ڈپازٹ کی دوسری قسط ہے جس پر سعودی عرب کے ساتھ اتفاق کیا گیا تھا۔ اس سے قبل دو ارب ڈالر کی پہلی قسط 15 اپریل 2026 کو وصول ہو چکی ہے۔
قبل ازیں حکومتِ پاکستان نے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کو مالیاتی ڈپازٹس کی واپسی کے بعد ملک اپنے غیرملکی زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی عرب سے تین ارب ڈالرز کے ڈپازٹس حاصل کرے گا۔
ہفتہ قبل امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تصدیق کی تھی کہ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے مزید تین ارب ڈالرز کے ڈپازٹس فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جن کی ترسیل آئندہ ہفتے کے دوران متوقع ہے۔
وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کے پہلے سے موجود پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹس اب سالانہ رول اور کی بنیاد کے تحت نہیں رہیں گے بلکہ انھیں طویل مدت کے لیے تین سال تک کی توسیع دی جائے گی، یعنی 2028 تک۔
اپریل کے اوائل میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے مالیاتی ڈپازٹس کی واپسی کا اعلان کیا تھا اور اسے ’معمول کا مالیاتی لین دین‘ قرار دیا تھا۔
خیال رہے اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے قبل سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبد اللہ الجدعان نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔
اس سے اگلے ہی روز سعودی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان سے ایک فوجی دستہ مشرقی خطے میں واقع شاہ عبدالعزیز فضائی اڈے پر پہنچا ہے جس میں پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں۔

