کینیڈین جیل سسٹم میں سنگین انتظامی غفلت سے درجنوں قیدی غلطی سے رہا، چند اب بھی لاپتہ
نورالامین، کینیڈا
کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو میں جیلوں کے نظام سے متعلق ایک سنگین انتظامی خامی سامنے آئی ہے، جہاں گزشتہ چند برسوں کے دوران درجنوں قیدیوں کو غلطی سے رہا کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس معاملے نے صوبے میں عوامی تحفظ اور نگرانی کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان 150 سے زائد قیدیوں کو انتظامی یا ریکارڈ کی غلطیوں کے باعث رہا کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ان میں سے کچھ افراد کو بعد میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا، تاہم چند کیسز میں قیدی ایک مدت تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہنچ سے باہر رہے۔
صوبے کے وزیراعلیٰ ڈوغ فورڈ نے اس صورتحال کو ”ناقابل قبول“ قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ کچھ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سولیسیٹر جنرل Michael Kerzner نے بھی ابتدائی معلومات میں غلطی پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فراہم کردہ تفصیلات مکمل طور پر درست نہیں تھیں، جس پر انہوں نے معذرت کا اظہار کیا۔
رپورٹس کے مطابق حاصل کردہ سرکاری دستاویزات میں انکشاف ہوا کہ مجموعی طور پر 150 سے زائد کیسز ایسے تھے جہاں قیدیوں کی رہائی غلطی سے عمل میں آئی۔ یہ معاملہ سرکاری نگرانی اور ڈیٹا مینجمنٹ کے نظام پر سوالات اٹھا رہا ہے۔
اس معاملے پر صوبائی سیاست میں بھی ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی انتظامی غلطیاں عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق جیلوں کے نظام میں اس نوعیت کی خامیاں نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہیں، خاص طور پر جب کچھ افراد طویل عرصے تک لاپتہ رہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ باقی مفرور افراد کی تلاش جاری ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں-

