ایرانی پاسداران انقلاب کا دو بحری جہازوں کو تحویل میں لینے کا دعویٰ
ایران کے پاسداران انقلاب نے دو بحری جہازوں کو تحویل میں لینے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دونوں جہاز چوری چھپے آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے-‘
ایسی اطلاعات ہیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تین جہازوں پر حملہ کیا ہے اور ان میں سے دو کو تحویل میں لے لیا ہے۔
ایران نے یہ اقدام امریکہ کی جانب سے خلیج میں بحری ناکہ بندی کے تحت ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز کو تحویل میں لیے جانے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ تہران نے اس پر جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔
اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ توسکا نامی جہاز کو امریکی بحریہ نے اس وقت تحویل میں لیا جب وہ رکنے کے ہدایات پر عمل میں ناکام رہا۔
ایران کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے اور وہ اس ’مسلح بحری قزاقی‘ کے خلاف جلد جوابی کارروائی کرے گا۔
بدھ کے روز پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت کی ’نگرانی‘ کر رہے ہیں اور ’خلاف ورزی کرنے والوں‘ کے خلاف ’سخت‘ کارروائی کا عندیہ دیا۔
جہازوں ایم ایس سی فرانسسکا اور ایپامینونداس کو تحویل میں لینے کے بعد پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کہنا تھا کہ یہ دونوں جہاز ’بنا اجازت‘ چل ہوئے تھے۔
پاسدارانِ انقلاب کا الزام ہے کہ یہ دونوں جہاز چوری چھپے آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے اور انھوں نے نیویگیشن سسٹمز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔
تاحال پاسداران انقلاب کے ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے-

