اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت اوول آفس میں اسرائیلی اور لبنانی حکام کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔
ادھر اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں پر دباؤ میں کمی کی توقع کی جا رہی تھی تاہم جمعے کے روز ایشیا میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کی قیمت میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا جو تقریباً 105.80 ڈالر فی بیرل ہے جبکہ امریکہ میں فروخت ہونے والے تیل کی قیمت 0.6 فیصد بڑھ کر 96.50 ڈالر ہو گئی۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ نے امریکہ اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اس وقت تک حملے روکے رکھے گا جب تک ایران ’متفقہ تجویز‘ پیش نہیں کرتا۔
ان حالات میں تیل کی قیمتیں مسلسل اوپر کی جانب جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ اس دوران آبنائے ہرمز سے ترسیلات اب بھی بڑی حد تک معطل ہیں، جس کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیرڈینی ڈینن نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنانی حکومت کا حزب اللہ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور نئی توسیع شدہ جنگ بندی کے باوجود لبنان حزب اللہ کے حملوں کو مکمل طور پر نہیں روک سکے گا۔
سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’حزب اللہ جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش میں راکٹ داغ رہی ہے جس کے جواب میں اسرائیل کو جوابی کارروائی کرنا ہوتی ہے۔ جب بھی ہمیں کوئی خطرہ نظر آتا ہے، ہم کارروائی کرتے ہیں۔‘
ان کے یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں کہ جب امریکا میں اسرائیل اور لبنان کے سفیروں نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی جہاں ٹرمپ نے 10 روزہ جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا۔
انھوں نے نئے معاہدے کے حوالے سے کہا کہ ’یہ سو فیصد نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ لبنانی فوج اس جنگ بندی کو حقیقت میں نافذ کرنے اور اس پر عمل کرانے کے قابل ہو گی۔‘

