’اہم اعلان‘، کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا، اینکر غریدہ فاروقی
پاکستان میں ٹی وی اینکر غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ اُن کے لباس پر بے ہودہ تبصرے کرنے والے کسی سوشل میڈیا صارف کو نہیں چھوڑا جائے گا-
جمعے کی دوپہر اپنے سوشل میڈیا کے ایکس اکاؤنٹ پر ’اہم اعلان‘ کے عنوان سے پوسٹ کرتے ہوئے ٹی وی اینکر نے لکھا کہ ’گیارہ 11 اپریل 2026 سے جنہوں نے میری تصویر/لباس کے بارے میں بے ہودہ، غلیظ، ہراسانی پر مبنی صنفی بنیاد پر ڈیجیٹل تشدد (gender based digital violence) اور آن لائن جرم (cyber crime) کی منظم مہم چلائی، ان سب کے خلاف میں نے فوری نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) میں شکایت درج کروا دی تھی۔‘
غریدہ فاروقی نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’متعلقہ اتھارٹی نے بہترین کارروائی کرتے ہوئے ان سب کے خلاف کارروائیاں اور گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔ ایک مجرم چنیوٹ سے پکڑ لیا گیا ہے (جس کی تفصیل تصویر میں لگائی جا رہی ہے اور جو غلیظ ویڈیو اس نے بنائی اس کا ثبوت بھی میرے پاس اور متعلقہ ایجنسی کے پاس موجود ہے)۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’باقی بھی اگلے چند گھنٹوں میں انشاءاللّہ گرفتار کر لیے جائیں گے۔ اب ٹویٹس/پوسٹس ڈیلیٹ کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ سب کے ثبوت محفوظ کر لیے گئے ہیں۔ کسی ایک کو بھی انشاءاللّہ چھوڑا نہیں جائے گا۔‘
ٹی وی اینکر نے لکھا کہ ’یہ صرف ایک خاتون کے خلاف حملہ نہیں تھا، یہ تمام خواتین کو دہشت زدہ کرنے کا حملہ اور طریقہ ہے۔ سائبر کرائم ایجنسی جو بہترین کاروائی کر رہی ہے اس سے خواتین کو اس معاشرے میں نہ صرف احساسِ تحفظ حاصل ہو گا بلکہ قانون کے سخت نفاذ اور اداروں کی مضبوطی پر اعتماد بھی بڑھے گا۔‘
غریدہ فاروقی نے اپنی پوسٹ کے آخر میں کہا کہ ’اسی کے ساتھ میں سائبر کرائم ایجنسی کے سربراہ ڈی جی سید خرم علی صاحب کی انتہائی مشکور ہوں جنہوں نے بذاتِ خود اس معاملے کی نگرانی کی ہے اور خواتین کے خلاف جرائم پر ان کی زیروٹالرنس پالیسی ہے۔ اس کے ساتھ ایجنسی اور تمام ٹیم کا بےحد شکریہ اور بہت ہی زبردست کام-‘
ٹی وی اینکر کے لباس پر اس وقت تبصرے کیے گئے تھے جب وہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوران اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں قائم کیے گئے میڈیا سینٹر میں موجود تھیں-

