متفرق خبریں

پیکا قانون کے تحت ایک اور مقدمہ، سینیئر صحافی فخر الرحمان اسلام آباد میں‌ گرفتار

اپریل 24, 2026

پیکا قانون کے تحت ایک اور مقدمہ، سینیئر صحافی فخر الرحمان اسلام آباد میں‌ گرفتار

سینیئر صحافی فخرالرحمان کو اسلام آباد میں نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے حراست میں لیا ہے۔

صحافی فخر الرحمان کے اہلخانہ کے مطابق اُن کو جمعے کی سہ پہر گرفتار کیا گیا-

این سی سی آئی اے کی جانب سے اس حوالے سے دوسرے نوٹس کی ایک نقل فراہم کی گئی ہے جس میں‌ فخر الرحمان کو 16 اپریل کو تفتیش کے لیے طلب کیا گیا تھا-

یہ نوٹس فخر الرحمان کے گھر کے پتے کورنگ ٹاؤن میں 14 اپریل کو بھیجا گیا تھا-

اس مبہم نوٹس میں‌ اُن کے خلاف کسی مقدمے کی تفصیل نہیں بتائی گئی اور یہ لکھا گیا ہے کہ اس سے پہلے بھی ایک نوٹس بھیجا گیا تھا-

دوسرے نوٹس میں‌ کہا گیا ہے کہ آپ کے سوشل میڈیا ایکس اکاؤنٹ سے جھوٹی، گمراہ کن اور اکسانے والا مواد پھیلایا جا رہا ہے-

اس نوٹس میں‌ مدعی ریاست کو بتایا گیا ہے کہ نوٹس پر سب انسپکٹر محمد وسیم خان کے دستخط ہیں-

نوٹس میں‌ فخر الرحمان کو سائبر کرائم ایجنسی کے دفتر سیکٹر جی 13 میں 16 مارچ کو دن 12 بجے طلب کیا گیا تھا-

فخر الرحمان طویل عرصے سے آج نیوز سے وابستہ رہے جبکہ وہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے لیے بھی عرصہ دراز سے خدمات انجام دے رہے ہیں-

تجزیہ کاروں‌ اور آزادی اظہار کی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں‌ موجودہ حکومت کے دور میں ناقدانہ آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے سائبر کرائم کے بدنام زمانہ قانون پیکا کو استعمال کیا جا رہا ہے-

بڑی تعداد میں‌ صحافی اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں‌ کے خلاف اس قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ مشہور وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ٹویٹ کرنے اور ری پوسٹ کرنے پر 17 برس کی سزائیں‌ سنائی گئیں‌ مبصرین کے مطابق جس کی جدید دنیا کی بدترین ڈکٹیٹرشپ میں‌ بھی مثال نہیں‌ ملتی-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے