’کچھ پیش رفت‘ مگر اسلام آباد میں ایران-امریکہ براہ راست مذاکرات کا امکان کم
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد تہران حکومت نے بیان دیا کہ وہ صرف پاکستان کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے لیے گئے ہیں اور امریکہ کے ساتھ براہِ راست بات چیت میں حصہ نہیں لیں گے۔
چار دن قبل منگل کو پاکستان میں ہونے والے امریکہ- ایران ممکنہ امن مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب ایران نے اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی پر برہم ہو کر یہ عندیہ دیا کہ وہ اب مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے تیار نہیں۔
اس کے بعد پاکستان کی درخواست پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں دو ہفتوں کی توسیع کر دی تاکہ ایران کو تنازع کے خاتمے کے لیے اپنا منصوبہ پیش کرنے کے لیے مزید وقت دیا جا سکے۔
گزشتہ روز وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے صحافیوں سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ اب ایران کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں مذاکرات کی جانب ’کچھ پیش رفت‘ ہو رہی ہے۔
مشرق وسطٰی کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے واشنگٹن سے پاکستان کے لیے روانہ ہونے کی بات بھی امریکی حکام نے کی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ اسلام آباد میں کیا کریں گے-
بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی بات چیت پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ہی ہو گی جس کی وجہ سے کسی فوری پیش رفت کا امکان انتہائی کم ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنے کی کوئی جلدی نہیں۔

