’ہمسائے ہماری ترجیح ہیں‘، ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ عمان کے بعد دو طرفہ بیانات
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’عمان کے ساتھ، جو آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع اس کا ہمسایہ ملک ہے دو طرفہ امور اور علاقائی پیش رفت سے متعلق اہم مذاکرات جاری ہیں۔‘
انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ہماری توجہ ان طریقوں پر مرکوز ہے جن کے ذریعے محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکے جو تمام عزیز ہمسایہ ممالک اور دنیا کے مفاد میں ہو۔‘
انھوں نے اپنے بیان کے آخر پر لکھا کہ ’ہمارے ہمسایہ ممالک ہماری ترجیح ہیں۔‘
عام طور پر دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) آبنائے ہرمز کے راستے گزرتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں اپنے عمانی میزبانوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ایکس پر اپنے پیغام میں عراقچی نے لکھا ہے کہ وہ عمان میں اپنے شفیق میزبانوں کے شکر گزار ہیں۔
ان کے مطابق ’عمان دورے کے دوران دوطرفہ امور اور علاقائی پیش رفت پر اہم بات چیت ہوئی۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہماری توجہ ایسے طریقوں پر مرکوز رہی جن کے ذریعے محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے، جو ہمارے تمام عزیز ہمسایوں اور دنیا کے مفاد میں ہو۔‘
انھوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ ’ہمارے ہمسائے ہماری ترجیح ہیں۔‘
دوسری جانب عمان کے وزیر خارجہ نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ان کی ایرانی منصب کے ساتھ آبنائے ہرمز پر اچھی بات چیت ہوئی ہے۔
عباس عراقچی سنیچر کو پاکستان سے دورہ کرنے کے بعد عمان روانہ ہوئے تھے جہاں ان کی عمان کے سلطان کے ساتھ علاقائی پیش رفت اور ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
عمانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر عراقچی کے ساتھ اچھی بات چیت ہوئی ہے۔‘

