امریکہ، ایران مذاکرات میں تعطل، ایشیائی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں حالیہ تعطل کے بعد پیر کی صبح ایشیائی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
آئل پرائس ڈاٹ کام کے مطابق پیر کی صبح 2.2 فیصد اضافے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 107.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دورہ پاکستان مکمل کر کے اب روس پہنچ چکے ہیں جہاں اُن کی صدر پوتن سے ملاقات متوقع ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ روسی حکام کے ساتھ سینٹ پیٹرزبرگ میں ان کی ملاقاتوں کا ایجنڈا کئی اہم امور پر مشتمل ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ پہنچنے پہ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’روس میں اہم شخصیات کے ساتھ ملاقات میں جاری جنگ کی صورتحال، علاقائی اور عالمی پیش رفت کا جائزہ اور تہران و ماسکو کے درمیان سیاسی تعلقات کو فروغ دینا ایجنڈے میں سرِفہرست ہیں۔‘
عراقچی نے مزید کہا کہ ماسکو کے ساتھ اس دورے کے دوران ایک وقفے کے بعد مشاورت کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر بات ہوگی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ روسی حکام کے ساتھ ملاقاتیں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کا اہم موقع فراہم کرتی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ’مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر بھی غور کیا جائے گا، ساتھ ہی علاقائی امور، خاص طور پر خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر بھی معاملات کو آگے بڑھانے پر بات ہوگی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ دورہ ان کے حالیہ دورے کا تسلسل ہے جس میں پاکستان اور سلطنتِ عمان شامل تھے، جہاں مذاکرات کی تازہ صورتحال اور مشترکہ امور پر بات چیت کی گئی جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی سے متعلق مسقط کے ساتھ تکنیکی مشاورت بھی جاری ہے۔‘
عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی چیلنجز کے پیش نظر ایران اور روس کے درمیان قریبی تعاون خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

