متفرق خبریں

اونٹاریو میں چوہوں اور گلہریوں کا بڑھتا خطرہ، گاڑیاں کو ہزاروں ڈالر کا نقصان

اپریل 28, 2026

اونٹاریو میں چوہوں اور گلہریوں کا بڑھتا خطرہ، گاڑیاں کو ہزاروں ڈالر کا نقصان

نورالامین دانش

اونٹاریو کے شہری علاقوں میں جنگلی چوہوں اور گلہریوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت اب ایک سنجیدہ شہری مسئلے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جہاں یہ جانور نہ صرف گھروں بلکہ گاڑیوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔
حالیہ واقعہ Rockton میں سامنے آیا، جس نے اس مسئلے کی شدت کو واضح کر دیا۔مقامی رہائشی لورا مک اینلٹی کے مطابق، ان کی دو گاڑیاں چند ہی ماہ کے دوران چوہوں اور گلہریوں کا شکار بنیں، جس کے نتیجے میں انہیں مجموعی طور پر 13 ہزار ڈالر سے زائد کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اب محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا رجحان محسوس ہوتا ہے۔

پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان کی 2019 ماڈل Kia Sorento کی انجن کمپارٹمنٹ میں گلہریوں نے گھونسلہ بنا لیا۔ اس دوران انہوں نے گاڑی کی اہم الیکٹریکل وائرنگ کو چبا ڈالا، جس سے نہ صرف گاڑی کی کارکردگی متاثر ہوئی بلکہ حفاظتی خدشات بھی پیدا ہو گئے۔ اس نقصان کی مرمت پر تقریباً 7,500 ڈالر خرچ ہوئے۔

چند ماہ بعد یہی مسئلہ ایک بار پھر سامنے آیا، جب نئی خریدی گئی Volkswagen Atlas بھی محفوظ نہ رہ سکی۔ مارچ میں چوہوں نے اس گاڑی کے انجن میں گھونسلہ بنا لیا، جس کے باعث مزید 6,000 ڈالر خرچ کرنا پڑے۔

لورا کے مطابق ”یہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ ذہنی دباؤ اور وقت کا ضیاع بھی ہے، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہمیں اس سے بچاؤ کا کوئی مستقل حل نظر نہیں آ رہا۔“

ماہرین اس حوالے سے خبردار کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ صرف گاڑیوں کے نقصانات تک محدود نہیں۔ Consumer Reports کے مطابق، چوہے اور دیگر چھوٹے جانور گاڑی کے ایئر وینٹس اور فلٹرز کے ذریعے اندر داخل ہو سکتے ہیں، جہاں وہ بدبو، فضلہ اور صحت کے لیے نقصان دہ جراثیم پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر گاڑی میں وائرنگ کا کٹنا، غیرمعمولی بو، انجن یا فرش پر گھونسلے کا مواد، یا خراشوں کے نشانات ظاہر ہوں تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ابتدائی علامات مستقبل میں بڑے نقصان کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے مسئلے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ گاڑی میں پیپرمنٹ آئل یا ریپلینٹ پاؤچز رکھے جائیں، وائرنگ کو کیپسائسن (مرچ) والی حفاظتی ٹیپ سے ڈھانپا جائے، گاڑی کو صاف رکھا جائے اور اس میں خوراک کے ذرات نہ چھوڑے جائیں۔ اس کے علاوہ گیراج کو مکمل بند رکھنا اور چوہا دانیاں لگانا بھی مؤثر اقدامات میں شامل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری پھیلاؤ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں وہ انسانی آبادیوں کے قریب آ رہے ہیں اور اس طرح کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

دوسری جانب، انشورنس ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر اس نوعیت کا نقصان پیش آئے تو فوری طور پر اپنی انشورنس کمپنی سے رابطہ کیا جائے، کیونکہ بعض صورتوں میں ”کمپریہینسیو کوریج“ ایسی صورتحال میں مالی مدد فراہم کر سکتی ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ شہری علاقوں میں جنگلی حیات کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ بظاہر معمولی نظر آنے والا یہ مسئلہ نہ صرف مالی نقصان بلکہ انسانی صحت اور حفاظت کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے