کالم

جدید معاشرہ اور پاکستانی مڈل کلاس کا طرز فکر و عمل، علی ارقم کا کالم

اپریل 27, 2026

جدید معاشرہ اور پاکستانی مڈل کلاس کا طرز فکر و عمل، علی ارقم کا کالم

پاکستانی مڈل کلاس کو شہری حقوق اور آسودگی و فراخی صرف اپنے لیے درکار ہے

ہمارے ہاں خوشحالی یا مالی آسودگی کا پیمانہ عموماً اخراجات کی لاگت (مالیت) یعنی زیادہ سے زیادہ خریداری (کنزمپشن) کو مانا جاتا ہے

اگر اسے آسان الفاظ میں سمجھیں تو یہ کہ ہم اکثر سمجھ لیتے ہیں کہ خوشحال ہونا یعنی زیادہ چیزیں خریدنا، اچھے کپڑے پہننا، بڑے گھر میں رہنا، گھر کو قیمتی سامنا و فرنیچر سے بھر دینا، مہنگے سکولوں میں بچے پڑھانا، باہر کھانا یا کھانا آرڈر کرنا اور پبلک ٹرانسپورٹ سے بے نیاز ہونا یا مہنگی گاڑی رکھنا ہے. ہم خود کو یا دوسروں کو اس معیار پر پرکھتے ہیں، تعلیم یا رہن سہن میں بہتری بہت کم ہمارے خیالات، سماجی اقدار یا رویوں کو بدل پاتی ہے، یعنی اشیاء میں جدت اجاتی ہے لیکن خیالات میں کسی قسم کی جدیدیت کا گزر نہیں ہو پاتا جو کہیں زیادہ گہری سماجی اور اخلاقی چیز ہے۔

پاکستان میں یہ الجھن بہت واضح طور پر نظر آتی ہے۔ یہاں “ترقی یافتہ ہونا” اکثر “مہنگا دکھائی دینا” بن گیا ہے۔ اگر کسی کے پاس قیمتی گھر ہے، برانڈڈ کپڑے ہیں، بچے انگلش میڈیم اسکول میں پڑھ رہے ہیں، یا گھر میں جدید سہولتیں ہیں تو اسے فوراً “ماڈرن” یا “مڈل کلاس” سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن سماجی علماء کے مطابق یہ صرف ظاہری یا مادی پہلو ہے، اصل جدیدیت یہ نہیں۔

ان کے مطابق اصل جدیدیت کا تعلق اس بات سے ہے کہ معاشرے میں لوگ ایک دوسرے سے کیسے تعلق رکھتے ہیں۔
کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟
کیا ادارے ذاتی تعلقات کے بجائے اصولوں پر چلتے ہیں؟
کیا شہری خود کو “کمیونٹی، برادری یا سفارش” کے بجائے ایک برابر کے شہری سمجھتے ہیں؟
یعنی جدید معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں انسانوں کے درمیان تعلقات انصاف، برابری، اور اصولوں پر ہوں، نہ کہ صرف طاقت، سفارش یا ذاتی تعلقات پر

آسان سی بات ہے پشاور کے علاقے حیات آباد یا نئی ایلیٹ سوسائٹی ڈی ایچ اے میں رہنے والوں سے سوال کریں کہ وہ اپنے گھریلو ملازمین ڈرائیور، چوکیدار یا صفائی ستھرائی و دیگر کام کرنے والی خواتین کو جو معاوضہ ادا کرتے ہیں وہ قانونی طور پر جائز ہے، یا انسانی بنیاد پر ہی بتائیں کہ وہ ایک چھوٹے سے چار سے پانچ بندوں کے گھرانے کی ضروریات کیلئے کافی ہے؟

زیادہ بے باکی سے کہیں تو پوچھیں کہ آپ روزانہ یا ہفتے میں تین چار بار گھر آکر برتن کپڑے وغیرہ دھونے والی خاتون کو تین ہزار روپے ماہوار یعنی ایک لارج پیزا کے برابر معاوضہ ادا کرتے ہوئے تھوڑی سی شرم و حیا محسوس کرتے ہیں؟

پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے مالی آسودگی یا ترقی کو زیادہ تر بس مصنوعات کی کھپت اور ذاتی طرزِ زندگی تک محدود کر دیا ہے۔ اس لیے ایک طرف جدید مالز، سوشل میڈیا کلچر، برانڈز اور کارپوریٹ لائف ہے، اور دوسری طرف وہی پرانا سماجی نظام بھی موجود ہے جس میں سفارش، ذات، برادری، تعلقات اور غیر رسمی طاقت فیصلہ کرتی ہے کہ کس کو کیا ملے گا

پاکستانی مڈل کلاس اس طرز فکر و عمل کی بڑی مثال ہے۔ یہ طبقہ جدید اشیاء اور طرزِ زندگی کو اپناتا ہے لیکن ساتھ ہی پرانے سماجی ڈھانچوں سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو پاتا۔ اس لیے ایک ہی شخص ایک طرف جدید شہری زندگی گزار رہا ہوتا ہے، اور دوسری طرف برادری، خاندان یا سماجی دباؤ کے مطابق فیصلے بھی کر رہا ہوتا ہے

ہہی وہ تضاد ہے جس کی طرف سماجی علماء اشارہ کرتے ہیں یعنی ایک معاشرہ بظاہر جدید لگ سکتا ہے لیکن اندر سے وہ پرانے سماجی ڈھانچوں پر چل رہا ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے کہ ہم “جدید اشیاء” استعمال کر رہے ہیں لیکن “جدید سماجی رویے” مکمل طور پر پیدا نہیں ہو سکے یعنی ہمیں شہریت کے سارے حقوق خود درکار ہیں لیکن ہم دوسروں کو اس دائرے میں شامل کرنے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کرتے

اصل نکتہ یہی ہے کہ جدیدیت کو صرف خریداری، سہولیات اور اسٹیٹس کے ساتھ جوڑ دینا ایک فکری غلطی ہے۔ اگر معاشرے میں انصاف، قانون کی برابری، اداروں پر اعتماد، اور شہری برابری موجود نہ ہو تو وہ معاشرہ چاہے جتنا بھی کنزیومر کلچر رکھتا ہو، وہ مکمل طور پر جدید نہیں کہلایا جا سکتا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے