امریکہ میں سزائے موت کی واپسی، پھانسیوں میں تیزی اور فائرنگ سکواڈ کا آپشن زیر ِغور
نور الامین
امریکہ میں فوجداری نظامِ انصاف میں ایک بڑی اور متنازع تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں محکمہ انصاف نے وفاقی سطح پر سزائے موت کو نہ صرف بحال کرنے بلکہ اس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں ایک بار پھر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عہدہ سنبھالتے ہی جاری کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کیا گیا، جس میں وفاقی پھانسیوں کو دوبارہ شروع کرنے، سزائے موت کے اطلاق کو بڑھانے اور مقدمات کے فیصلوں کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد سنگین جرائم کے متاثرین کو فوری انصاف فراہم کرنا اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
قائم مقام اٹارنی جنرل Todd Blanche کے مطابق محکمہ انصاف “قانون کی عملداری کو مضبوط بنانے اور متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے” کے عزم پر کاربند ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی، اجتماعی تشدد اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے قتل جیسے کیسز میں سزائے موت کو ترجیح دی جائے گی۔
یہ اعلان سابق اٹارنی جنرل Merrick Garland کی جانب سے Joe Biden کے دور میں عائد سزائے موت پر پابندی کے خاتمے کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ اس پابندی کی بنیاد سزائے موت کے طریقہ کار اور انصاف کے تقاضوں سے متعلق خدشات تھے۔
نئی پالیسی کے تحت مہلک انجکشن کے ذریعے سزائے موت دوبارہ نافذ کی جائے گی، تاہم فائرنگ اسکواڈ جیسے متبادل طریقوں پر بھی غور جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات کو قانونی اور اخلاقی سطح پر سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی سطح پر پھانسی دینے کی سہولیات میں توسیع یا ان کی منتقلی کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، جبکہ استغاثہ کو متعدد زیر التوا مقدمات میں سزائے موت طلب کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
محکمہ انصاف نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ سزائے موت کے مقدمات کو تیز تر بنانے کے لیے اپیلوں کے دورانیے کو کم کیا جا سکتا ہے اور رحم کی اپیلوں کے طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے نئی قانون سازی کی تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ پالیسی فوری طور پر عدالتوں میں چیلنج کی جائے گی، خاص طور پر امریکی آئین کی Eighth Amendment کے تناظر میں، جو “ظالمانہ اور غیر معمولی سزاؤں” کی ممانعت کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اپیلوں کے عمل کو محدود کرنا بنیادی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہو سکتا ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف عدالتی بلکہ سماجی سطح پر بھی گہری تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔ حامیوں کے نزدیک سزائے موت سنگین جرائم کے خلاف ایک مؤثر روک اور متاثرین کے خاندانوں کے لیے انصاف کا ذریعہ ہے، جبکہ مخالفین غلط سزاؤں، نسلی امتیاز اور دنیا بھر میں سزائے موت کے خاتمے کے رجحان کو بنیاد بنا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ Criminology کے ماہرین کے درمیان بھی اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا سزائے موت واقعی جرائم میں کمی لاتی ہے یا نہیں۔
آنے والے دنوں میں مزید پالیسی اقدامات متوقع ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ میں سزائے موت کا معاملہ ایک نئے اور نہایت متنازع مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں عدالتیں، سیاست اور عوامی رائے سب اہم کردار ادا کریں گے-

