’ہم سے رابطہ کرنا ہو تو اس کو بجا دیجیے‘، شاہ چارلس کا صدر ٹرمپ کو گھنٹی کا تحفہ
برطانیہ کے بادشاہ چارلس نے امریکہ کے صدر ٹرمپ کو اُن کے نام والی گھنٹی تحفے میں دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر کبھی ہم سے رابطہ کرنا ہو تو بس گھنٹی بجا دیجیے گا۔‘
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانیہ کے بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا پارکر کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں سرکاری عشائیہ دیا گیا۔ اور اس موقع پر دونوں رہنماؤں میں ہنسی مزاح بھی ہوا-
عشائیے کے دوران شاہ چارلس اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے اپنی تقاریر میں مزاحیہ جملوں کا سہارا لیا۔ صدر ٹرمپ نے کانگریس میں شاہ چارلس کی تقریر کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ انھوں نے ڈیموکریٹس کو کھڑے ہو کر داد دینے پر مجبور کر دیا تھا۔
برطانوی بادشاہ اور امریکی صدر کی گفتگو میں تاریخی حوالے
اپنی گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نہ ہوتا تو یورپ جرمن بول رہا ہوتا، اس کے جواب میں شاہ چارلس نے کہا کہ شاید برطانیہ نہ ہوتا تو امریکی شہری فرانسیسی زبان بول رہے ہوتے۔
شاہ چارلس نے وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ میں حالیہ تبدیلیوں پر گفتگو کرتے ہوئے سنہ 1814 میں برطانوی افواج کی جانب سے وائٹ ہاؤس کو نذر آتش کیے جانے کا حوالہ دیا اور کہا ’ہم نے سنہ 1814 میں وائٹ ہاؤس کی از سر نو تعمیر کی کوشش کی تھی۔‘
برطانوی بادشاہ نے اوکس (آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ میں اتحاد) اور نیٹو اتحاد کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ’دونوں ملکوں میں تیکنیکی اور عسکری تعاون بڑھایا جا سکے۔‘
شاہ چارلس کا ڈونلڈ ٹرمپ کو گھنٹی کا تحفہ
شاہ چارلس نے سنہ 1944 میں برطانیہ کے ایک شپ یارڈ سے لانچ کی گئی ایک آبدوز کا ذکر کیا۔
اس آبدوز کا نام ایچ ایم ایس ٹرمپ تھا اور اس نے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا تھا۔ شاہ چارلس نے اس آبدوز میں نصب گھنٹی بطور تحفہ امریکی صدر کو دی اور کہا ’اگر کبھی ہم سے رابطہ کرنا ہو تو بس گھنٹی بجا دیجیے گا۔‘
ایران کے خلاف عسکری کامیابی کا دعویٰ
امریکی صدر نے اس موقع پر تقریر میں ایران کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے اس مخصوص حریف کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم اس حریف (ایران) کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے اور شاہ چارلس بھی مجھ سے اتفاق کرتے ہیں۔‘

