’سحرش اور نادیہ کہاں ہیں‘، جنوبی وزیرستان میں ’ڈرون حملے‘ سے اموات
خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں مبینہ طور پر ایک شہری کے گھر پر کواڈکاپٹر سے بارودی مواد گرنے کے نتیجے میں تین کم عمر بچوں سمیت چار افراد کی جانیں چلی گئی ہیں-
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے علاقے کے لوگوں نے بڑے پیمانے پر تصاویر اور ویڈیوز اپلوڈ کی ہیں-
پولیس اور ہسپتال ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے نواح میں غواخوا نامی گاؤں میں گھر پر کواڈکاپٹر سے گولہ گرا- پولیس حکام نے تصدیق کی کہ ابتدائی طور پر اس واقعے میں چار اموات ہوئیں جبکہ 10 افراد زخمی ہوئے-
مقامی لوگوں اور عینی شاہدین کے مطابق واقعہ رات نو بجے کے لگ بھگ پیش آیا- اس واقعے کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ تھانہ سی ٹی ڈی جنوبی وزیرستان میں درج کی گئی-
سول ہسپتال وانا کے مطابق وہاں چار لاشیں لائی گئیں جن میں 15 سالہ حیان حسن ولد صدام حسین، دس سالہ سنایا بی بی اور آٹھ سالہ سحرش بی بی دختران صدام حسین کے علاوہ سدے خان کی 40 سالہ اہلیہ کی میت شامل تھی-
پولیس ریکارڈ کے مطابق ہسپتال میں لائے گئے زخمیوں میں شادہ گل کی 40 سالہ اہلیہ، 55 سالہ حکم خان، 25 سالہ نور محمد، 26 سالہ محمد نصیر، انعام اللہ کی 39 سالہ اہلیہ، آٹھ سالہ نادیہ، چھ سالہ سدرہ، چار سالہ معاذ، سات سالہ خیام، اور صدام حسین کی 41 سالہ اہلیہ شامل ہیں-
بعض اطلاعات کے مطابق واقعے میں مرنے والوں کی تعداد پانچ ہو چکی ہے-
علاقے کی فضا سوگوار ہے اور مقامی فاطمہ گرلز پبلک سکول جہاں صدام حسین کی بیٹیاں زیرِتعلیم تھیں وہاں طالبات اپنی کلاس فیلوز کی موت پر غمزدہ ہیں-
فاطمہ گرلز پبلک سکول غواخوا کے پرنسپل احسان وزیر نے فیس بُک پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”ڈرون کاپٹر حملے میں شہید ہونے والے پانچ افراد کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔
ان پانچ جنازوں میں چار ننھے معصوم بچے اور بچیاں بھی شامل تھیں، جن کی جدائی ہر آنکھ کو اشکبار کر گئی۔ جنازے کے بعد خاندان کا سربراہ سدے گل وزیر شدید غم اور صدمے میں ڈوبا ہوا تھا۔ قسم سے آج دل بہت زیادہ غمزدہ ہے، سدے گل وزیر کے خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ بے بسی کی یہ وہ گھڑیاں ہیں جہاں انسان کے پاس الفاظ ختم ہو جاتے ہیں۔
وہ ننھی معصوم بچیاں جو میرے سکول میں پڑھتی تھیں، آج ان کی جگہ کلاس میں خالی تھی۔ ان کی کلاس فیلو بچیاں ادھر اُدھر بھاگتی پھر رہی تھیں اور بار بار پوچھ رہی تھیں:
سر! سحرش اور نادیہ کہاں ہیں؟ کیا وہ زخمی ہیں یا ہمیں چھوڑ کر چلی گئی ہیں؟ میری زبان میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اُن معصوم سوالوں کا جواب دے سکتا۔
میڈم کی کرسی بھی خالی تھی، اور بچیاں مسلسل پوچھ رہی تھیں: میڈم کہاں ہیں؟ مگر دل اور زبان دونوں جواب دینے سے قاصر تھے۔“

