ایرانی جزیرہ خارگ کے ساحل کے ساتھ تیل کے پھیلاؤ کی سیٹلائٹ تصاویر
سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں ایران کے جزیرہ خارگ کے ساحل کے نزدیک سمندر میں تیل کے پھیلاؤ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ممکنہ رساؤ کی وجہ کیا ہے۔ یہ تیل مغربی ساحل کے قریب خلیجِ فارس میں واقع اس چھوٹے سے جزیرے کے پاس دیکھا گیا جو ایران میں تیل کی برآمد کا اہم مرکز ہے۔
تیل کے رساؤ کی نگرانی کرنے والی کمپنی اوربیٹل ای او ایس نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ جمعرات تک اس پھیلاؤ کا رقبہ تقریباً 52 مربع کلومیٹر (20 مربع میل) تھا۔
غیر سرکاری ادارے ’کانفلکٹ اینڈ انوائرنمنٹ آبزرویٹری‘ نے بھی ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ تاحال یہ پتا نہیں چل سکا کہ رساؤ کہاں سے شروع ہوا ہے تاہم یہ جنوب کی جانب پھیل رہا ہے۔
تنظیم کے مطابق بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ایرانی پارلیمان میں صوبہ بوشہر کے رکن جعفر پورکبگانی نے ’سمندر میں تیل چھوڑے جانے‘ کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھبے یورپی ٹینکر کی جانب سے سمندر میں چھوڑے گئے بیلسٹ پانی میں موجود تیل اور فضلے کی وجہ سے ہیں اور ان کی وجہ سے ماحول کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
جزیرہ خارگ جو کہ ایران کی تیل برآمدی صنعت کا مرکز ہے خلیجِ فارس کے ساحل پر آبنائے ہرمز سے چند سو کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔
جزیرہ خارگ میں ایران کی سب سے بڑی تیل برداری تنصیب، پائپ لائنیں، ذخیرہ کرنے کے ٹینک اور تیل کی برآمدات سے متعلق دیگر بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔

