اہم خبریں

اضطراب کی پٹری سے بندھے ’ڈپریسڈ ڈُوڈ‘، علی ارقم کا کالم

مئی 12, 2026

اضطراب کی پٹری سے بندھے ’ڈپریسڈ ڈُوڈ‘، علی ارقم کا کالم

سوشل میڈیا کے نقار خانے میں بسا اوقات ایسی آوازیں سنائی دیتی ہیں، ایسے افراد ملتے ہیں جو اپنی تحریروں یا گفتگو میں ’ڈپریسڈ ڈُوڈ‘ یا ڈیمسل ان ڈسٹریس (damsel in distress)کی طرح برتاؤ کرتے ہیں، ڈپریشن، اینگزائٹی حقیقی اور سنجیدہ انسانی مسائل ہیں۔ بات اُس رویے کی ہو رہی ہے جہاں اداسی، تنہائی یا جذباتی شکستگی رفتہ رفتہ ایک سماجی پرفارمنس، ایک شناخت میں بدلنے لگتی ہے۔

فلموں وغیرہ میں یہ کلیشے نما منظر بارہا دہرایا جاتا ہے, جہاں غنڈوں میں پھنسی دوشیزہ کو کوئی گبھرو جوان آکر بچاتا ہے۔ اس منظر کو بہت پہلے ایک ڈرامہ نگار نے ریورس کرتے ہوئے ایک تھیٹر پلے (Under the gaslight)میں کچھ ایسے پیش کیا تھا کہ کہانی کا مرد کردار سنورکی ریلوے لائن پر رسیوں سے بندھا ہوا ہے، تیزی سے آتی ٹرین کی گڑگڑاہٹ کے بیچ کہانی کا خاتون کردار لارا جو کمرے میں بند ہے وہ کلہاڑے سے دروازہ توڑ کر اسے بچانے پہنچ جاتی ہے۔

بھارتی فلم ویلکم میں ایسا ہی کچھ کترینہ کیف نے آگ میں پھنس جانے اور کترینہ کا حسن دیکھ کر گنگ رہ جانے والے اکشے کمار کو بچا کر کیا ہے

فیس بک ٹائم لائن پر بندھے سنورکی کی قسمت اچھی ہو تو کوئی لارا بچانے پہنچ جاتی ہے یا وہ رنگ دے بسنتی کے شرمن جوشی کی طرح بزعم خود یہ کہتا ہوا کہ تو نے میری زندگی بچائی ہوگی، کسی لارا کا انتخاب کرکے فیس بک ان باکس میں بغل گیر ہونے یا گلے پڑنے پہنچ جاتا ہے

بات آگے بڑھے تو ٹھیک ورنہ زندگی نہ ملے گی دوبارہ کے فرحان اختر کی طرح کہتا ہے کہ انسان کا کرتویہ (یعنی اس کے اختیار میں ہے) ہے کہ وہ کوشش کرے باقی کامیابی یا ناکامی تو اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔

سو کسی اور لارا کی طرف بڑھتے ہیں۔

کیا کیا جائے سوشل میڈیا مراسم یا معاشقوں کا کہ آج کی متلون مزاجی کے دور میں زیادہ دیر نبھائے بھی نہیں جاسکتے، اس لیے خواہش یہ ہوتی ہے کہ ڈپریشن یا اضطراب کی اس پٹری سے نجات ایک وقتی ایکٹ یا پرفارمنس ہو، جیسے تھیٹر میں ہوتا ہے: ناظرین تالیاں بجا کر آگے بڑھ جاتے ہیں، اور کردار اپنی زندگی میں واپس لوٹ جاتا ہے۔

سو تعلق بڑھے بھی تو اک نیا اضطراب جنم لیتا ہے، اپنا سالیٹیوڈ، خودکلامی یا سوشل میڈیا کی دیوار سے باتیں کرنا پھر سے اچھا لگنے لگتا ہے، زیر حاشیہ کسی نئی پٹری سے بندھنے کی خواہش ہوتی ہے-

زیگمنٹ باؤمن (Liquid Love) کے لفظوں میں کہیں تو اب سماجی تعلقات بہت ہی فریجائل اور ناپائیدار سے ہوگئے ہیں، لوگ ایک طرف بڑی اداس ہے زندگی۔۔۔۔۔ گاتے ہوئے قربت اور محبت کی جستجو کرتے دکھائی دیتے ہیں، دوسری طرف مستقل وابستگی اور ذمہ داری سے خوفزدہ بھی ہیں

اس تضاد نے تعلقات کو ایک مستقل کشمکش میں بدل دیتا ہے، جہاں قربت مطلوب ہے لیکن اس کے دام میں رہ کر اس کی تنگنائیاں قبول کرنا منظور نہیں، کیونکہ آزادی بھی ساتھ مطلوب ہیں، اس لیے

کسی بندھن سے پیروں کی شناسائی نہیں ہوتی

ان سب کے جو ریسیوینگ سائیڈ پر رہ جاتے ہیں وہ پھر تعلقات کی بے ثباتی، اینشسنیس (anxiousness)، ان سیکیورٹی (Insecurity)، غیر حاضری یعنی ایبسینس (absence) کیلئے شکوہ کناں ہوتے ہیں، اس سوز و ساز اور پیچ و تاب نے پچھلے کچھ سالوں میں کاؤنسلنگ بوم (counselling boom) کو جنم دیا ہے۔

زیگمنٹ باؤمن کہتے ہیں کہ انفرادی و سماجی مراسم کی پیچیدگی نے اس رجحان کو پروان چڑھایا کہ ان سب کو ہم اکیلے نہیں سلجھا سکتے، اس لیے کاؤنسلنگ ہونی چاہیے لیکن وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ کاؤنسلنگ اکثر اصل مسئلہ حل نہیں کر پاتی بلکہ صرف اسے قابلِ برداشت بنانے کے طریقے فراہم کرتی ہے-

لیکن نفسیاتی مسائل پر بڑھتی ہوئی آگاہی اور بات چیت نے اس کاؤنسلنگ بوم کو ایک سماجی ضرورت کے ساتھ ساتھ ایک معاشی ڈھانچے میں بھی ڈھال دیا ہے، اب تعلقات کے مسائل کو بھی مارکیٹ کی لاجک سے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے

اس لاجیک یعنی منطق نے انسانی تعلقات کی نزاکتوں اور باریکیوں کے گرد ریلیشن شپ انڈسٹری کھڑی کردی ہے، یہ انڈسٹری تعلقات کے نئے تصورات متعارف کراتی ہے، جن میں سے کچھ مستقل وابستگی سے بچنے کے طریقے بھی بتاتے ہیں

جدید کنزیومر کلچر میں جہاں ہر چیز فوری دستیاب اور قابل استعمال ہے، وہاں تشفی نہ ہونے پر منی بیک گارنٹی (money-back guarantee) بھی ہے۔ تو اب سوشل میڈیا کی منڈی میں محبت، تنہائی، افسردگی کی پرفارمنس پر لائیکس یا کیئر یا دل والے ایموجیز اس کی قدر کا تعین کرتے ہیں، اگر دوستی و تعلق تعلق تسکین دینے کے بجائے اس بے اطمینانی پر سوال کرے، تو اسے فوراً بدل دیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے مارکیٹ میں اشیاء کو بدلا جاتا ہے

تو بس اب "delete” کا بٹن تعلقات کی نئی حقیقت ہے۔

ضمنی طور پر عرض ہے کہ ذہنی صحت، ڈپریشن اور اینگزائٹی کے حوالے سے برھی ہوئی آگاہی اور مباحثے حقیقتاً خوش آئند بات ہے، لیکن اس کے یک رخے مطالعے کے ساتھ ان ماہرین کو بھی پڑھنا چاہیے جو ذہنی صحت کو بہت زیادہ میڈیکلائز کیے جانے کے نتائج پر بات کر رہے ہیں۔

جیسے آج کسی بھی بیماری کیلئے ڈاکٹر کے پاس جائیں تو وہ ساتھ میں اینٹی ڈپریسنٹ وغیرہ ضرور لکھ دیتے ہیں، اس سب سے ذہنی مسائل حل ہوں نہ ہوں، دواؤں کی کمپنیوں کے منافع ضرور بڑھ رہے ہیں-

کئی ماہرین ہیں جو ذہنی صحت کو صرف کمیمیکل امبیلنس (chemical imbalance) کے طور پر پیش کرنے کے شدید ناقد ہیں جیسے برطانوی ماہرِ نفسیات جوآنا مونکریٖف نے اس تصور کو "سیروٹونن کا افسانہ” قرار دیا ہے، اور کہا کہ ڈپریشن کو کیمیکل لوچھا سمجھنا درست نہیں۔

ان کے مطابق اینٹی ڈپریسنٹس ادویات محض ذہنی کیفیت کو بدلتے ہیں، جیسے الکحل یا دیگر نشہ آور اشیاء، اور اصل ضرورت یہ ہے کہ ذہنی صحت کو "ڈی میڈیکلائز” کیا جائے یعنی اسے صرف طبی مسئلہ نہ سمجھا جائے بلکہ سوشل کنسٹرکٹ کے طور پر دیکھا جائے، تاکہ اصل سماجی مسائل یعنی معاشی چیلنجز، انفرادی، خانگی یا سماجی تعلقات کی خرابی یا کمزوری، لائف سٹائل اور سماجی رتبے کے سوشل پریشر (سماجی دباؤ) پر توجہ دی جاسکے۔

تو ڈپریسڈ بھائیو اور ڈسٹریسڈ بہنو اور لونلینیس کے شکوہ کناں بزرگو!

کئی دفعہ تو ذہنی صحت کے مسائل کا حقیقی حل سماجی نیٹ ورکس، حقیقی زندگی کے تعلقات اور با معنی اشتراک میں ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا کی روانیاں وقتی سکون دے سکتی ہیں، لیکن اصل سکون گہرے رشتوں، باہمی اعتماد اور مقصدیت کی حامل زندگی میں ہے یا عمران خان کے لفظوم میں کہیں تو قبر میں ہے

اگر اس سب کو سماجی تناظر میں دیکھیں تو شاید ہمیں زیادہ امید ملتی ہے کہ ہم اپنی زندگی بدل سکتے ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے