اہم

’الیکٹرانک جیمنگ‘ والے 13 کروڑ ڈالر مالیت کے امریکی طیارے آپس میں‌ ٹکرا کر تباہ

مئی 18, 2026

’الیکٹرانک جیمنگ‘ والے 13 کروڑ ڈالر مالیت کے امریکی طیارے آپس میں‌ ٹکرا کر تباہ

دشمن کے الیکٹرانک نظام کو جام کرنے والے امریکی طیارے آپس میں‌ ٹکرا کر تباہ ہو گئے جن کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے-

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق طیاروں کے ٹکرانے کا یہ واقعہ اتوار کے روز امریکی ریاست آئیڈاہو میں ایئرفورس کے اڈے ماؤنٹین ہوم پر پیش آیا۔ جب گن فائٹر سکائیز ایئر شو کے دوسرے اور آخری دن بحریہ کے دو ’ای اے 18 جی گراؤلر‘ ساختہ طیارے آپس میں ٹکرا گئے-

امریکی بحریہ کے ترجمان نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ دونوں طیاروں میں سوار عملے کے چار ارکان نے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا دی اور جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا وہ زخمی ہوئے یا نہیں۔

حادثے کے بعد ایئر بیس کو عارضی طور پر بند اور ایئر شو کو منسوخ کر دیا گیا۔

ماؤنٹین ایئر فورس بیس گن فائٹرز کی جانب سوشل میڈیا پر بیان میں کہا گیا کہ ’اس واقعے کا باعث بننے والے پائلٹس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔‘

بیان کے مطابق ’مہمانوں کی جانب سے صبر کا مظاہرہ کرنے اور ہمدردی کے اظہار پر ہم اُن کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اس کی بدولت ہمیں فوری اور محفوظ طریقے سے معاملات کو سنبھالنے میں مدد ملی۔‘

کمانڈر امیلیا اومایم نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ عملے کا طبی معائنہ کیا گیا۔

امیلیا اومایم نے کہا کہ ای اے 18 جی گراؤلرز کو ریاست واشنگٹن کے ایک الیکٹرانک اٹیک سکواڈرن کے حوالے کیا گیا تھا۔ امریکی بحریہ کے مطابق ان میں سے ہر طیارے کی قیمت تقریباً چھ کروڑ 70 لاکھ ڈالرز ہے۔

اس ایئر شو کے انعقاد میں آئیڈاہو کی تنظیم سلور ونگز نے مدد کی تھی۔ تنظیم سے وابستہ کم سائکس نے بتایا کہ فوجی اڈے پر کوئی زخمی نہیں ہوا۔

امریکی بحریہ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک جدید طیارہ ہے جو خاص طور پر الیکٹرانک جنگ کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کا بنیادی کام حریف کے فضائی دفاعی نظام کو جام کرنا یا ناکارہ بنانا ہے، تاکہ اپنے طیاروں اور افواج کو محفوظ طریقے سے کارروائی کرنے میں مدد مل سکے۔

یہ طیارہ امریکہ کے الیکٹرانک اٹیک سکوارڈنز کا حصہ ہوتا ہے۔ الیکٹرانک اٹیک سکواڈرن ایسے فوجی یونٹس ہوتے ہیں جو خصوصی طیاروں کے ذریعے حریف کے ریڈار، مواصلاتی نظام اور دفاعی ٹیکنالوجی کو جام یا ناکارہ بنانے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے