اہم خبریں

’نام میں‌ بہت کچھ رکھا ہے‘، دنیا کے مختلف ملکوں‌ میں‌ ممنوع قرار دیے گئے نام

مئی 18, 2026

’نام میں‌ بہت کچھ رکھا ہے‘، دنیا کے مختلف ملکوں‌ میں‌ ممنوع قرار دیے گئے نام

نام میں کیا رکھا ہے؟ ایسے محاورے پاکستان میں‌ عام بولے جاتے ہیں‌ مگر بظاہر اس میں‌ بہت کچھ۔ ہے، اتنا کہ بعض ممالک میں کئی نام ممنوع ہیں۔
درحقیقت دنیا بھر کے والدین نے اپنے بچوں کے نام رکھنے کے لیے سب سے متنوع ذرائع سے تحریک حاصل کی۔ تاہم کچھ کو بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے منتخب کردہ نام مقامی قوانین اور حتیٰ کہ عدالتوں کی طرف سے رد کر دیے گئے۔

یہاں ہم آپ کے لیے دنیا بھر میں ممنوع ناموں کی کچھ مشہور مثالیں پیش کرتے ہیں۔

فرانس کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا کہ بچی کا نام مشہور چاکلیٹ-ہیزل نٹ سپریڈ کے نام پر نیوٹلا نہیں رکھا جا سکتا۔ وجہ؟ عدالت نے والدین سے نام بدلنے کے لیے وجہ بتائی کہ نیوٹلا ‘اسے طعن و تشنیع کا شکار بنا دے گا۔’ والدین نے اس کے بعد نئے نام ایلا کا انتخاب کیا۔

سنہ 2016 میں برطانیہ کے علاقے ویلز میں ایک ماں نے اپنے بچے کے لیے سائینائیڈ کو ‘پیارا، خوبصورت نام’ سمجھا، اس کو زہر سمجھا جاتا ہے اور بہت سے لوگ ہٹلر کی موت سے بھی جوڑتے ہیں- اس ماں کا خیال تھا کہ بچے کی وجہ سے یہ ایک مثبت مفہوم دے گا۔ تاہم عدالت نے ماں‌ سے اختلاف کیا اور مقامی حکومت کی جانب سے اس نام کو درج کرنے کی منظوری نہ دینے کو درست قرار دیا-

سویڈن میں‌ مقامی فرنیچر کے دنیا بھر میں‌ مشہور برینڈ اکیا کا نام ملک میں بچوں کے نام کے طور پر رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح 40 حروف پر مبنی ایک نام Brfxxccxxmnpcccclllmmnprxvclmnckssqlbb11116 رکھنے کی بھی اجازت نہیں‌ جسے مخفف کے طور پر آلبن تلفظ کیا جاتا ہے۔

اکُوما جاپانی لفظ ہے جس کا مقامی زبان میں‌ مطلب ‘شیطان’ ہے۔ یہ معاملہ ملک میں اتنا مقبول ہوا کہ وزیراعظم کے کابینہ کے ایک رکن بھی اس میں شامل ہو گئے۔ آخرکار اس نام پر پابندی لگا دی گئی۔

جاپانی حکام نے کریکری (چمکدار یا جھمکدار ناموں) پر پابندی بھی عائد کر دی ہے، یہ ایسے نام ہیں جن میں تخلیقی انداز کا کچھ حصہ ہوتا ہے۔

اٹلی میں‌ ایک جوڑے نے اپنے بیٹے کا نام وینردی رکھنے کا فیصلہ کیا، جو اطالوی زبان میں ‘جمعہ’ کے لیے ہے، لیکن عدالتیں اس پر رضا مند نہیں تھیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ جمعہ ایک ‘مزاحیہ’ ناموں کے زمرے میں آتا ہے جو حکومت کی طرف سے ممنوع ہیں۔ والدین نے بچے کا نام اس کے بجائے گریگوریو رکھا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے