حکومتی امداد نہ ملنے پر سپرٹ ایئرلائنز کا کمپنی بند کرنے کا فیصلہ
سستی یا بجٹ ایئرلائن سپرٹ نامی امریکی فضائی کمپنی نے کاروبار بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ائیر لائن انتظامیہ کی جانب سے کاروبار بند کرنے کی وجہ ٹرمپ انتظامیہ سے 500 ملین ڈالر کی مالی امداد حاصل کرنے میں ناکامی بتائی گئی ہے۔
ایئر لائن امریکی حکومت کے ساتھ ایک امدادی معاہدے پر بات چیت کر رہی تھی، جس کے ذریعے اسے دیوالیہ ہونے سے بچایا جا سکتا تھا، تاہم یہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔
سنیچر کے روز اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں سپرٹ ایئرلائنز نے ’انتہائی افسوس‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے فوری طور پر اپنے آپریشنز منظم انداز میں ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
سپرٹ ایئرلائنز حالیہ برسوں میں دوسری مرتبہ دیوالیہ ہونے کی کارروائی سے نکلنے کی کوشش میں تھی، تاہم ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے نے کمپنی کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا۔
ایئر لائن کے مطابق سپرٹ کی تمام آنے والی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جن مسافروں نے سپرٹ کے ذریعے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ سے ٹکٹ خریدے تھے، انھیں خودکار طور پر اصل ادائیگی کے طریقے پر رقم واپس کر دی جائے گی۔
وہ مسافر جنھوں نے ٹریول ایجنٹ کے ذریعے ٹکٹ بک کروائے تھے وہ ری فنڈ کے لیے براہِ راست اپنے ایجنٹ سے رابطہ کریں۔
البتہ ووچر، کریڈٹ، ایئر لائن پوائنٹس یا کسی اور ذریعے سے ٹکٹ خریدنے والوں کے معاوضے کا فیصلہ بعد میں دیوالیہ پن کی عدالت کی کارروائی کے دوران کیا جائے گا۔

