اہم خبریں

’جب ضرورت پڑی تو سعد نے ریاستی اداروں کے ساتھ کام کیا‘، گرفتار یوٹیوبر کی اہلیہ کا دعویٰ

مئی 2, 2026

’جب ضرورت پڑی تو سعد نے ریاستی اداروں کے ساتھ کام کیا‘، گرفتار یوٹیوبر کی اہلیہ کا دعویٰ

لاہور سے کالعدم عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق کے الزام میں‌ زیرِحراست یوٹیوبر کی اہلیہ نے کہا ہے کہ ’سعد نے جب ضرورت پڑی تو ریاستی اداروں کے ساتھ کام کیا۔‘

اُن کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب یوٹیوبر محمد سعد بن ریاض سے متعلق ایک ایف آئی آر محکمہ انسداد دہشت گردی یا سی ٹی ڈی کے ذریعے سامنے لائی گئی-

سعد بن ریاض کی اہلیہ عائشہ قیوم نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سوموار کی صبح تقریباً ساڑھے تین بجے 12 سے 13 نقاب پوش مسلح افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور سعد کو اپنے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

زیرِحراست سعد کی اہلیہ کا دعویٰ ہے کہ جب قانونی دباؤ ڈالا گیا تو اس کے بعد سی ٹی ڈی اہلکاروں نے انتہائی مضحکہ خیز بنیادوں پر ان کے شوہر کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔

عائشہ قیوم کا کہنا ہے کہ ’سعد ماضی میں ریاستی اداروں کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔‘

انہوں‌ نے ایکس پر مزید لکھا کہ ’ایسے افراد جنھیں ریاست نے جانچ پڑتال کے بعد قابلِ اعتماد سمجھا ہو، اگر انھیں من مانی حراست کرنے پڑے اور بعد ازاں اُن پر پچھلے قوانین لاگو کیے جائیں، تو پھر یہ سوال تو ناگزیر ہے کہ ریاست آخر کس بنیاد پر اپنے شہریوں سے اعتماد کی توقع رکھتی ہے؟‘

ڈیجیٹل پلیٹ فارم ایون نیوز جس سے سعد بن ریاض منسلک ہیں، اس کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں اس گرفتاری کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا کہا گیا ہے۔

یوٹیوبر سعد کے دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والے ابراہیم جعفری نامی ایکس ہینڈل سے لکھا گیا کہ ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ انھیں مسجد سے حراست میں لیا گیا جبکہ کیمرے کی فوٹیج سے ثابت ہوتا ہے کہ انھیں گھر سے اٹھایا گیا۔

تاہم ان کی جانب سے کوئی فوٹیج جاری نہیں کی گئی۔ تاحال سی ٹی ڈی اور سعد بن ریاض کے ساتھیوں و اہلخانہ کی جانب سے کیے گئے کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی اور یہ معاملہ اب عدالت میں‌ ہی زیرِبحث آئے گا-

ایف آئی آر میں‌ لگائی گئی دفعات

لاہور کے سی ٹی ڈی تھانے کے محرر تو قیر اسلم کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا کہ 27 اپریل کی صبح وہ سی ٹی ڈی کے دیگر اہلکاروں کے ہمراہ اشتہاری مجرمان کی تلاش میں لاہور کے جی پی او چوک، مال روڈ پر موجود تھے کہ انھیں مخبر نے اطلاع دی کہ مزنگ روڈ پر واقع مسجد حنفیہ غوثیہ میں کالعدم تنظیم القاعدہ کا ایک مبینہ رکن موجود ہے جو لوگوں کو کالعدم تنظیم میں شامل ہونے کی دعوت دے رہا ہے اور ان میں ممنوعہ کتب بھی تقسیم کر رہا ہے۔

پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ جب صبح کے وقت ریڈ کی گئی تو مخبر کی نشاندہی پر ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جس نے اپنا نام محمد سعد بن ریاض بتایا۔

ایف آئی آر کے مطابق تلاشی کے دوران سعد کے پاس موجود بیگ سے اسامہ بن لادن سے متعلق کتاب کے پانچ نسخے برآمد ہوئے جو سی ٹی ڈی کے مطابق ممنوع کتب میں شمار ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ سی ٹی ڈی کے مطابق سعد کے پاس سے القاعدہ کا مممبرشپ کارڈ بھی برآمد ہوا۔

ایف آئی آر میں اینٹی ٹیرر ازم ایکٹ 1997 کی دفعات 11 ایف (2) اور 11 ڈبلیو شامل کی گئی ہیں۔ 11 ایف (2) کا تعلق کالعدم تنظیم کی رکنیت رکھنے جبکہ 11 ڈبلیو نفرت انگیز مواد یا کسی دہشت گرد یا کالعدم تنظیم کا مواد شائع کرنے اور تقسیم کرنے کے متعلق ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے