اہم خبریں

ورلڈ کپ 2026 سے قبل فیفا کا متنازع فیصلہ، پانی کی بوتلوں پر پابندی نے نئی بحث چھیڑ دی

جون 5, 2026

ورلڈ کپ 2026 سے قبل فیفا کا متنازع فیصلہ، پانی کی بوتلوں پر پابندی نے نئی بحث چھیڑ دی

نورالامین

ٹورنٹو: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے چند روز قبل ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے۔
فیفا نے اپنے اسٹیڈیم ضابطہ اخلاق میں تبدیلی کرتے ہوئے شائقین پر دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلیں ساتھ لانے پر پابندی عائد کر دی ہے، جس پر ماحولیات کے کارکنوں، مقامی سیاسی رہنماؤں اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو میں موسمِ گرما کی شدت بڑھ رہی ہے اور لاکھوں شائقین ورلڈ کپ کے میچز دیکھنے کے لیے اسٹیڈیمز کا رخ کریں گے۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر شائقین کو پانی ساتھ لانے کی اجازت دی جائے تو نہ صرف انہیں مہنگے داموں بوتل بند پانی خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کے استعمال میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

ماحولیاتی تنظیموں کے مطابق یہ فیصلہ پائیداری اور ماحول دوست پالیسیوں کے ان دعوؤں سے متصادم ہے جو عالمی کھیلوں کے بڑے ایونٹس اکثر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوبارہ استعمال ہونے والی بوتلوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے ان پر پابندی لگانا ماحولیات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

عوامی نمائندوں نے بھی اس فیصلے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جون اور جولائی کی شدید گرمی میں شائقین کو پانی تک آسان رسائی فراہم کرنا صحتِ عامہ کا اہم مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق محفوظ اور شفاف ری یوزایبل بوتلوں کی اجازت دی جانی چاہیے تاکہ لوگوں کو پانی کی کمی اور گرمی کے اثرات سے بچایا جا سکے۔

فیفا کا مؤقف ہے کہ یہ پابندی حفاظتی وجوہات کی بنا پر عائد کی گئی ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کی وضاحت مزید شفاف انداز میں کی جانی چاہیے۔فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 11 جون سے ہوگا جبکہ کینیڈا کے میزبان شہروں میں میچز کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔

اس فیصلے نے ایک بار پھر یہ سوال چھیڑ دیا ہے کہ عالمی کھیلوں کے بڑے مقابلوں میں تجارتی مفادات، عوامی سہولت، صحت اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے