’میچ ارجنٹینا جیت گیا مگر دل کیبو وردے نے‘، امیلکار کیبرال کا خواب مکمل
فٹبال کے عالمی مقابلے میں افریقہ کے ایک چھوٹے سے ملک کیبو وردے کی ٹیم نے عالمی چیمپیئن اور لیونل میسی کی ٹیم ارجنٹائن کو تگنی کا ناچ نچا کر شائقین کو نہال کر دیا ہے-
سوشل میڈیا پر اس وقت سے سے بڑا موضوع یہی میچ ہے- فٹبال شائقین کہہ رہے ہیں کہ ’میچ ارجنٹینا جیت گیا مگر دل کیبو وردے نے‘-
ایسے میں کیبو وردے کے بارے میں صحافی و تجزیہ کار علی ارقم کی تحریر پڑھیے:
کیبرال : کیبو وردے کی اجتماعی یادداشت کا درخشاں حوالہ
پانچ چھ دہائیاں قبل کیبو وردے اور گینی باسو کی جدوجہد آزادی کے معمار، مارکسسٹ انقلابی لیڈر اور دانشور امیلکار کیبرال نے ایک آزاد کیبو وردے کا خواب دیکھا تھا، وہ خواب محض ایک جغرافیائی ریاست نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا سیاسی اور ثقافتی وجود تھا جو نوآبادیاتی محکومی سے آزاد ہو کر اپنی آواز، اپنی شناخت اور اپنی تاریخ خود لکھ سکے
ان کے نزدیک آزادی صرف پرچم یا حکومت کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ لوگوں کی اجتماعی خود شناسی کا عنوان (collective self-recognition) تھی۔
اسی لیے ان کی تحریروں میں ثقافت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ان کا مشہور تصور تھا کہ
"ثقافت مزاحمت کا پہلا میدان ہے۔”
نوآبادیاتی نظام صرف زمین پر قبضہ نہیں کرتا بلکہ لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش بھی کرتا ہے کہ ان کی زبان، ان کی موسیقی، ان کی یادداشت اور ان کی شناخت کم تر ہے۔
کیبرال کے لیے آزادی کا مطلب اس ثقافتی وقار کی واپسی بھی تھا۔
اسی تناظر میں آج ارجنٹینا کے خلاف ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ میچ میں دوسرا گول کرنے والے کھلاڑی سڈنی لوپیز کیبرال کی موجودگی محض ایک کھیلوں کی کہانی نہیں۔
نیدرلینڈز میں پیدا ہونے کے باوجود ان کا اپنے آبائی وطن کی نمائندگی کا انتخاب اس وسیع کیپ ورڈین ڈائسپورا کی علامت ہے جسے نوآبادیات، ہجرت اور عالمی محنت کی منڈیوں نے دنیا بھر میں پھیلایا تھا۔
یہ بھی ایک طرح کا تاریخی ریورسل (historical reversal) ہے۔
ایک زمانے میں پرتگالی سامراجیہ کے جہاز اٹلانٹک کو امپائر اور استحصال کے نیٹ ورک میں بدل رہے تھے۔ آج اسی سمندر کے دونوں کناروں پر پھیلی کیپ ورڈین نسلیں ایک آزاد ریاست کے نام اور پرچم کے تحت دوبارہ جڑ رہی ہیں۔
امیلکار کیبرال نے نظریے اور مسلح مزاحمت کے ذریعے قوم کو عالمی نقشے پر جگہ دلائی تھی
آج ایک اور کیبرال، کیبو وردے کا فٹبال کھلاڑی، اپنے نام کی معنویت اور پرفارمنس کے ساتھ عالمی شعور میں اسی قوم کی شناخت اور اینٹی کالونیل مزاحمت بازگشت بن رہے ہیں
نتیجہ ورلڈ چیمپیئن ارجنٹینا کے حق میں آیا لیکن کیبو وردے فٹبال کے افق پر ایک جگمگاتا ستارہ بن گیا ہے اور ہم جیسے کم پڑھے لکھوں کے لیے امیکار کیبرال سے تعارف و آگاہی کا حوالہ بھی،
وہ کیبرال جسے قتل کرکے پرتگالی آمریت سمجھی تھی کہ مزاحمت کچل دی گئی لیکن جس کی مزاحمتی فکر دو ملکوں کو کالونیل غلامی سے آزادی دلانے کی بنیاد بنی-

