یمن کے حوثیوں کی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حملوں کی دھمکی
یمن میں اقوام متحدہ کی تسلیم کردہ حکومت کے مخالف حوثیوں نے کہاہے کہ ان کی افواج کا سامنا ’سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں‘ سے ہوا ہے جو مبینہ طور پر صنعا ہوائی اڈے پر ایرانی مسافر طیارے کو اترنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔
حوثیوں کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے ’یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزی‘ کا سلسلہ جاری رکھا تو ان کا گروہ ’سعودی ہوائی اڈوں اور خشکی و سمندر پر موجود اہم سعودی مفادات‘ کو نشانہ بنائے گا۔
حوثی تحریک سے وابستہ ’المسیرہ ٹی وی‘ نے خبر دی ہے کہ جمعے کے روز صنعا میں ایک ایرانی طیارہ پہنچا، جو اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے گروپ کے سرکاری وفد کو تہران لے جانے کے لیے آیا تھا۔ المسیرہ نے یہ بھی بتایا کہ طیارے میں 200 سے زائد مریض بھی سوار تھے۔
سعودی قیادت والے اتحاد نے سنیچر کی صبح خبردار کیا کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا جواب ’فیصلہ کن انداز` اور ’بے مثال طاقت‘ کے ساتھ دیا جائے گا۔
ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ہاتھوں صنعا پر قبضے کے بعد سے سعودی عرب 2015 سے یمن کی جنگ میں مداخلت کرنے والے ایک عسکری اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔

